ورائے مثل ہے کونین میں جمالِ حضور

ورائے مثل ہے کونین میں جمالِ حضور

تلاش کس لئے کرتے ہو تم مثالِ حضور

 

رگِ حیات میں بہتی ہے بوئے مشکِ ختن

مشامِ جاں میں مہکتا ہے جب خیالِ حضور

 

پسند ہے مجھے کچھ اس لئے بھی ذکرِ نبی

زباں پہ رہتی ہے شیرینیٔ مقالِ حضور

 

میں ان کی راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھا ہوں

کبھی تو کاش یہ پلکیں ہوں پائمالِ حضور

 

ہمارے ہونٹ یقیناً نہیں ہیں اس قابل

نظر سے بارہا چومیں گے ہم نعالِ حضور

 

پھپھولے دل کے مچلتے ہیں اس تمنا میں

ملے لعابِ دہن یعنی اندمالِ حضور

 

زمانہ رب سے طلب کر رہا ہو جب جنت

ہمارے لب پہ رہے مشکبو سوالِ حضور

 

ہمارا دل بھی یقیناً ہے ایک باغِ جناں

ہے اس میں جب سے سکونت پذیر آلِ حضور

 

عطائے جودِ مسلسل سخاوتِ پیہم

کثیر لطف و عنایات ہیں خصالِ حضور

 

جو دیکھتا ہے دل و جاں نثار کرتا ہے

حسِین ایسے ہیں اشفاق خد و خالِ حضور

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات