اردوئے معلیٰ

Search

ورا ہے وسعت لفظ و بیاں سے اسکی زیبائی

کلام اللہ نے جس روئے تاباں کی قسم کھائی

 

کہوں بھی میں تو کس منھ سے کہوں ، جلوہ کریں آقا

کہاں ہے تاب ان آنکھوں میں ہونے کو تماشائی

 

کرم اے رحمت کل کربلا والوں کے صدقے میں

زمانہ منتظر ہے دیکھنے کو میری رسوائی

 

چراغ اکرامِ آقا کا ہوا روشن بس اک پل میں

شبِ تاریکِ تربت میں جو میری جان گھبرائی

 

سجائے سر پہ وہ تاج شفاعت آنے والے ہیں

نہ گھبراؤ سیہ کارو شفاعت کی گھڑی آئی

 

نبی کی یاد کے دریا میں جس دم ڈوب جاتا ہوں

ہزاروں محفلوں کو آنکھ دکھلاتی ہے تنہائی

 

کوئی جب چھیڑتا ہے نغمۂ عشق شہِ بطحا

تو میری بزمِ جاں میں خود بخود بجتی ہے شہنائی

 

کوئی طیبہ کا راہی جب نگاہیں دیکھ لیتی ہیں

چھلک پڑتی ہیں آنکھیں اور جنوں لیتا ہے انگڑائی

 

بس اتنی آرزو ہے دیکھ لوں میں گنبد خضریٰ

سلامت رکھ مرے اللہ ! ان آنکھوں کی بینائی

 

زمینِ شورِ باطل کیا اُگاتی پیڑ جنت کے

یہ کہیے ہوگئی نور خدا کی جلوہ فرمائی

 

نہ کیونکر میں لٹادوں نورؔ تن ، من ، دھن شہ دیں پر

زمانہ ان کا دیوانہ ، دو عالم ان کے شیدائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ