اردوئے معلیٰ

وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے

وہ غم جو ہجر میں ملتے ہیں ، غم نہیں ہوتے

 

!کسی کے نام کو لکھ لکھ کے کاٹنے والو

قلم کی نوک سے رشتے قلم نہیں ہوتے

 

تمہیں ملیں بھی تو کیسے کہ آج کل ، یارو

ہم اپنے آپ کو اکثر بہم نہیں ہوتے

 

ہمیں پسند نہیں ہے ہجوم میں ہونا

ہما شُما جہاں ہوتے ہیں ، ہم نہیں ہوتے

 

اگر ہنسوں بھی تو آنکھیں اُداس رہتی ہیں

عجیب غم ہیں ، خوشی میں بھی کم نہیں ہوتے

 

یہ مملکت ہے میاں مملکت محبت کی

سو تاج و تخت یہاں محترم نہیں ہوتے

 

تھکن کے دیو کا سایہ ہے میری بستی پر

یہاں کے باسی کبھی تازہ دم نہیں ہوتے

 

شجر کی گود ہمیشہ بھری ہی رہتی ہے

پرندے نقل مکانی سے کم نہیں ہوتے

 

یہ کیسے لوگ ہیں فارس کہ میری چیخوں سے

کسی کی آنکھ کے کونے بھی نم نہیں ہوتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات