اردوئے معلیٰ

وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

کچھ نہیں دل کو راس آ پایا

 

غم رُبا بھی کوئی نہیں آیا

اور نہ ہی غم شناس آ پایا

 

تلخ کامی میں کام کون آتا

وہ سراسر مٹھاس آ پایا

 

سخت مشکل سے آ سکا لیکن

دل سرِ بزمِ یاس آ پایا

 

میں اگر تیرے پاس آیا بھی

میں کہاں تیرے پاس آ پایا

 

سر اُتارے گئے ہیں کاندھوں سے

تب تمہارا لباس آ پایا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ