اردوئے معلیٰ

Search

وفاداریوں پر وفاداریاں ہیں

ہماری طرف سے یہ تیاریاں ہیں

 

زمانہ کی کیا کیا ستم گاریاں ہیں

نئی سے نئی اس کی عیاریاں ہیں

 

خلش، آہ و آنسو، فغاں، درد و حسرت

محبت میں ساری ہی بیماریاں ہیں

 

یہ جنت، یہ نہریں، یہ غلماں، یہ حوریں

مداراتِ مؤمن کی تیاریاں ہیں

 

نکالو زکوٰةِ محبت میں جاں کو

کہ اس تک ہی ساری دل آزاریاں ہیں

 

بہ آہِ سحر کر انہیں شعلہ ساماں

جو ایماں کی باقی یہ چنگاریاں ہیں

 

نظرؔ کو نہیں جب سے عرفانِ منزل

اِدھر کی، اُدھر کی، اسے خواریاں ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ