اردوئے معلیٰ

وفورِ شوق میں ہے، کیفِ مشکبار میں ہے

وفورِ شوق میں ہے، کیفِ مشکبار میں ہے

حیاتِ نعت مری عرصۂ بہار میں ہے

 

یہ جاں، یہ شوق بہ لب، تیری رہگذارِ ناز

یہ دل، یہ دید طلب، تیرے انتظار میں ہے

 

تری عطا ترے الطافِ بے بہا مجھ پر

مری طلب ترے اکرام کے حصار میں ہے

 

ترے کرم، تری بخشش کا کب، کہاں ہے شمار

مری خطا ہے جو حد میں ہے اور شمار میں ہے

 

گلِ ُگلاب کو حاصل نہ مہر و مہ سے نمود

وہ دلبری جو تری خاکِ ریگزار میں ہے

 

مسافتوں میں بھی رکھتی ہے ُقربتوں کا کرم

حسین ربط تری خاکِ رہگُزار میں ہے

 

سرہانے شوق کے رکھتا ہُوں تیری دید کے خواب

پہ یہ کرم تو فقط تیرے اختیار میں ہے

 

اُداس رُت میں بھی رہتا ہے اک یقیں پیہم

مرا نصیب ترے قریۂ بہار میں ہے

 

بس ایک لمحے کو مہکی تھی اُن کی دید ُگلاب

یہ زیست اب بھی اُسی ساعتِ قرار میں ہے

 

جوارِ گنبدِ خضریٰ ہے روشنی کا ہجوم

فلک ستاروں کو تھامے ہوئے قطار میں ہے

 

یہ نعت ہے تو ہے تسکینِ جان و دل مقصودؔ

نہیں تو زیست کا ہر لمحہ اضطرار میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ