اردوئے معلیٰ

وفورِ عشق سے لبریز دل کا دردِ دوراں ہے

 

وفورِ عشق سے لبریز دل کا دردِ دوراں ہے

وہ والی ہے وہ آقا ہے وہ داتا ہے وہ سلطاں ہے

 

اُنہی کا نام لیوا ہوں فقط اِس اِک حوالے سے

قوی بخشش کا امکاں ہے ، مری بخشش کا امکاں ہے

 

عطا ہو نعت کہنے کا سلیقہ مجھ کو بھی آقا

مضامیں ہیں،تخیل ہے، تمنائی ہوں عنواں ہے

 

منور آپ کے جلووں سے مہر و ماہ و انجم ہیں

معطر آپ کی خوشبو سے گلشن ہے گُلِستاں ہے

 

کرم کی اِک نظر ہو مجھ پہ میرے شاہِ دو عالم

زمانے کے حوادث سے مرا یہ دل پریشاں ہے

 

ملے گا اذن دربارِ رسالت سے مجھے اشعرؔ

مدینے کے مسافر پر شۂ بطحا کا احساں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ