اردوئے معلیٰ

وقت تھا اپنے ماہ و سال میں گم

دل مگر تھا ترے خیال میں گم

 

مجھ پہ پیہم عنایتیں کر دیں

اور مَیں تھا ابھی سوال میں گم

 

رنگ، خوشبو، دھنک، صبا، جگنو

سب کے سب ہیں ترے جمال میں گم

 

جو ترے نام کے ثنا گر ہیں

وہ نہیں ہیں کسی ملال میں گم

 

کیا کمالِ سخن کروں ترے نام

وہ تو خود ہے ترے کمال میں گم

 

لب رہے میم سے سدا مربوط

دل رہا حرفِ نور دال میں گم

 

تو یتیموں کا پالنے والا

سارے بے کس ترے نوال میں گم

 

تیری اولاد کربلا میں تھی

سارا منظر تھا تیری آل میں گم

 

عشق، دریوزہ گر ترے در کا

حسن بھی تیرے خَدّ و خال میں گم

 

کیسے تمثیل لاؤں مَیں مقصودؔ

سب مثالیں ہیں بے مثال میں گم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات