وُجُودِ شاعرِ مِدحت پہ خوف ہے طاری

وُجُودِ شاعرِ مِدحت پہ خوف ہے طاری

صراطِ نعت ہے تلوار ایک دو دھاری

 

حرُوفِ نعت میں ہَوں کیفیات بھی شامل

یہاں عرُوض کی کافی نہیں ہے فن کاری

 

گُھلی ہے رُوح میں سرکار آپ کی چاہت

وریدِ جاں میں رواں ہے بہ شکلِ سر شاری

 

حُضُور! بھیجا ہے جاؤوک کہہ کے مالک نے

پڑا ہے آپ کی چوکھٹ پہ ایک اقراری

 

یقیں ہے حشر میں رُسوا نہ ہونے دے گی مجھے

مرے شفیع، شہِ بحر و بر کی ستّاری

 

مرے خمیر میں ہے اہلِ بیت کی اُلفت

مری سرشت ہے سادات سے وفا داری

 

نکل ہی آیا غموں میں بھی لُطف کا پہلو

سنا ہے جب سے، وہ کرتے ہیں سب کی غمخواری

 

میانِ حشر مری چھب ہو دیکھنے والی

پکارا جاؤُں اگر نعت کا کرم چاری

 

مٹھاس ہونٹوں پہ اشفاق روز افزوں ہے

زباں پہ جب سے ہُوا وردِ یا نبی جاری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہیں ہے کوئی ذات پیارے نبی سی​
باغِ جنت سے محمدؐ کی خبر آئی ہے
خیال و فکر میں اپنے قریب پاؤں نبیؐ
جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
فرشتے صبح دم آئیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں
نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے
جب مدینے کی بات کرتا ہوں
جبیں میری ہو اُنؐ کا سنگِ در ہو
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ

اشتہارات