اردوئے معلیٰ

وہیں پر برق گرتی ہے جہاں اپنا نشیمن ہو

کہاں تک اب بھلا ہم روز شاخِ آشیاں بدلیں

عجب کیا ہے کہ اب کچھ ہم قفس صیاد بن جائیں

قفس والوں سے یہ کہہ دو کہ اندازِ فغاں بدلیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات