وہی بندہ خدا کی خُلد کا حقدار ہوتا ہے

وہی بندہ خدا کی خُلد کا حقدار ہوتا ہے

نبی کی پیروی جس شخص کا معیار ہوتا ہے

 

جہاں پر بھی مِرے آقا کا پائے نور پڑتا ہے

وہ صحرا بھی ہمیشہ کے لیے گُلزار ہوتا ہے

 

نبی کے عِشق میں ہر شے کو جو قربان کرتا ہے

وہی صدیقِ اکبر اور یارِ غار ہوتا ہے

 

نگاہیں با ادب کر لو، دِلوں کو با خبر کر لو

وہ دیکھو گُنبدِ سر سبز کا دیدار ہوتا ہے

 

مدینے میں پہنچ جاتا ہوں آنکھیں بند کرتے ہی

تصوّر پر اگر طاری خیالِ یار ہوتا ہے

 

رضاؔ جو دامنِ اقدس سے وابستہ ہیں آقا کے

اُنہی لوگوں کا پاکیزہ بڑا کردار ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں
رُخِ زیبا نگاہوں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے
السّلام اے تاجدارِ مُرسلیںؐ
جس گھڑی لب پہ محمدﷺ کے ترانے آئے
کبھی چشمِ شوق سے منعکس، کبھی لوحِ دل پہ لکھا ہُوا
مر بھی جائے تو تری بات سے جی اُٹھتا ہے
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
شبِ تمنا کے رتجگے میں نئی سحر کا نصاب لکھا
حُبِ احمدﷺ کا صلہ بولتا ہے
جی جگر ان پر لٹاتے آئے ہیں