اردوئے معلیٰ

وہی تھی کل بھی پسند اور وہی ہے آج پسند

الگ مزاج ہے میرا، الگ مزاج پسند

 

میں کیا کروں کہ مری سوچ مختلف ہے بہت

میں کیا کروں مجھے آیا نہیں سماج پسند

 

میں اپنی راہ نکالوں گا اپنی مرضی سے

مجھے نہیں ہیں زمانے، ترے رواج پسند

 

یہ میرا دل ، مری آنکھیں ، یہ میرے خواب عذاب

اٹھا اے عشق تجھے جو بھی ہے خراج پسند

 

محاذِ عشق پہ خود ہی شکست مانی ہے

زبیر دل پہ ہوا ہے کسی کا راج پسند

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات