وہی دورِ مصطفیؐ سا آئے لوٹ کر زمانہ

محبوبِ خُدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

محبوب مرا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

 

ہے سایہ کُناں کون بھلا ننگے سروں پر

رحمت کی ردا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

 

سنتا ہے فقیروں کی فغاں اور بھلا کون

منگتوں کی صدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

 

بن مانگے بھرے کون بھلا جھولیاں سب کی

کہتے ہیں گدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

 

اللہ سے بندوں کو ملاتا ہے بھلا کون

وہ راہنما، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

 

طائف میں بھلا کس پہ عدو سنگ بزن تھے

دے اُن کو دُعا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

 

آقائے ظفرؔ اُنؐ کے سوا اور بھلا کون

دے بھیک سدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں
رُخِ زیبا نگاہوں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے
السّلام اے تاجدارِ مُرسلیںؐ
مری مشکل خدایا کر دے آساں
خدا ارفع، عظیم و محتشم ہے
خدا سارے زمانوں کا ہے خالق
کرم فرمائی رب کی بیشتر ہے
خدا سے وصل ہو دل چاہتا ہے
خدا کا گھر درخشاں ضو فشاں ہے
خداوندا مرے دل کو سکوں دے

اشتہارات