وہی دورِ مصطفی سا آئے لوٹ کر زمانہ

محبوبِ خُدا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

محبوب مرا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

 

ہے سایہ کُناں کون بھلا ننگے سروں پر

رحمت کی ردا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

 

سنتا ہے فقیروں کی فغاں اور بھلا کون

منگتوں کی صدا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

 

بن مانگے بھرے کون بھلا جھولیاں سب کی

کہتے ہیں گدا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

 

اللہ سے بندوں کو ملاتا ہے بھلا کون

وہ راہنما، کون بھلا اُن کے سوا ہے

 

طائف میں بھلا کس پہ عدو سنگ بزن تھے

دے اُن کو دُعا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

 

آقائے ظفرؔ اُن کے سوا اور بھلا کون

دے بھیک سدا، کون بھلا اُن کے سوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ