وہی سردارِ جُملہ مُرسلاں ہیں

وہی سردارِ جُملہ مُرسلاں ہیں

وہی روحِ روانِ مقبلاں ہیں

وہی حاجت روائے سائلاں ہیں

ظفرؔ وہ قبلہ گاہِ عاشقاں ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کہیں تاریخِ عالم میں نہ دیکھا
جبیں میری ہے اُنؐ کا نقشِ پا ہے
نہ دولت سے ہے، نہ گھر بار سے ہے
ہے شہرہ آپؐ کا سارے جہاں میں
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘
’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘
’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘
جو پھول اپنے رنگ میں خوشبو میں ہو جدا
خُداوندِ کون و مکاں، اللہ اللہ