وہ اور لوگ ہیں جن کو ہے خشک و تر کی تلاش

وہ اور لوگ ہیں جن کو ہے خشک و تر کی تلاش

ہمیں تو رہتی ہے شاہِ اُمم کے در کی تلاش

 

کبھی تو روضۂ اقدس بھی سامنے ہو گا

کبھی تو ہو گی مکمل مری نظر کی تلاش

 

مرے تئیں تو سبھی آپ کی تلاش میں ہیں

یہ لوگ جن کو ہے ہر وقت بحر و بر کی تلاش

 

خدا نے کتنی بلندی اُنھیں عطا کی ہے

ہمیشہ جن کو رہی آپ ہی کے در کی تلاش ہے

 

حضور آئے تو منزل مسافروں کو ملی

نہ جانے کب سے تھی دنیا کو راہبر کی تلاش

 

درودِ پاک کی محفل یونہی سجاتے رہو

اندھیری رات میں کرتے رہو سحر کی تلاش

 

میں جس کے سائے میں بیٹھوں تو سبز ہو جاؤں

فدا مجھے بھی ہے طیبہ کے اُس شجر کی تلاش

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ