اردوئے معلیٰ

Search

وہ ایک شخص کہ سب جا چکے تو یاد آیا

کسی کو آئے نہ آئے مجھے تو یاد آیا

 

مقابلے پر اندھیرا نہیں ہوا بھی ہے

کئی چراغ یکایک بجھے تو یاد آیا

 

ہمارے ساتھ بھی موسم نے داؤ کھیلا تھا

خزاں کے ہاتھ سے پتے گرے تو یاد آیا

 

گئی رتوں کے پرندے ابھی نہیں لوٹے

شجر پہ تازہ شگوفے کھلے تو یاد آیا

 

کسی کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کا قرض مجھے

گلاب شاخ سے کانٹے چبھے تو یاد آیا

 

بہت زمانے سے کاغذ پہ دل نہیں رکھا

پرانے بیگ سے کچھ خط ملے تو یاد آیا

 

وہ ایک رسم تھی بڑھ کر گلے لگانے کی

تمام ہو چکے شکوے گلے تو یاد آیا

 

قدم قدم پہ وہ گزرا ہوا زمانہ ظہیرؔ

کسی کو آئے نہ آئے مجھے تو یاد آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ