اردوئے معلیٰ

Search

وہ بار بار مرا ظرف آزماتے ہوئے

بہت قریب سے گزرا ہے دور جاتے ہوئے

 

یہ بات اور اذیت سی دل کو دیتی ہے

وہ دور مجھ سے ہوا ہاتھ کو ہلاتے ہوئے

 

تو بے رخی سے کوئی بات کر کے بھول گیا

بہت سکون ملا دل کو چوٹ کھاتے ہوئے

 

ہم ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں کھو دیں گے

کہاں خبر تھی ہمیں دل سے دل ملاتے ہوئے

 

وہ سانس لے رہا ہے آج میری سانس کے ساتھ

جھجک رہا تھا کبھی میرے پاس آتے ہوئے

 

میں بات بات پہ محسوس اس کو کرتا رہا

وہ یاد اور بھی آتا رہا بھلاتے ہوئے

 

میں اتنا محو ہوا اس سے گفتگو میں زبیر

کہ اس کو ساتھ ہی لے آیا گھر کو آتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ