اردوئے معلیٰ

Search

وہ بھیجتا تھا دلاسے تو اعتماد بھرے

مگر یہ زخم بڑی مدتوں کے بعد بھرے

 

قسم خدا کی بغاوت کی سمت کھینچتے ہیں

یہ سب رویے تعصب بھرے ، عناد بھرے

 

کہیں پہ عکس مکمل ، کہیں ادھورے تھے

جو آئینے بھی میسر تھے سب تضاد بھرے

 

یہ عشق ایک دن اپنی ہوس دکھائے گا

سو نظریات بدل لینا اعتقاد بھرے

 

جو ماں کے پیار سے گوندھے ہوئے تھے کھانوں میں

وہ ذائقے ہی نہیں بھولتے سواد بھرے

 

ابھی بھی چیر کے رکھتے ہیں سب رگیں دل کی

تمہارے آخری نامے جو تھے فساد بھرے

 

یہ صرف دھاگے نہیں ہونگے منتوں والے

یہ خواب ہونگے کسی شخص کے مُراد بھرے

 

میں جارہی ہوں بہت دور ، اپنی آنکھوں میں

بہت سے اشک بھرے ، ڈھیروں ڈھیر یاد بھرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ