وہ بھیجتا تھا دلاسے تو اعتماد بھرے

وہ بھیجتا تھا دلاسے تو اعتماد بھرے

مگر یہ زخم بڑی مدتوں کے بعد بھرے

 

قسم خدا کی بغاوت کی سمت کھینچتے ہیں

یہ سب رویے تعصب بھرے ، عناد بھرے

 

کہیں پہ عکس مکمل ، کہیں ادھورے تھے

جو آئینے بھی میسر تھے سب تضاد بھرے

 

یہ عشق ایک دن اپنی ہوس دکھائے گا

سو نظریات بدل لینا اعتقاد بھرے

 

جو ماں کے پیار سے گوندھے ہوئے تھے کھانوں میں

وہ ذائقے ہی نہیں بھولتے سواد بھرے

 

ابھی بھی چیر کے رکھتے ہیں سب رگیں دل کی

تمہارے آخری نامے جو تھے فساد بھرے

 

یہ صرف دھاگے نہیں ہونگے منتوں والے

یہ خواب ہونگے کسی شخص کے مُراد بھرے

 

میں جارہی ہوں بہت دور ، اپنی آنکھوں میں

بہت سے اشک بھرے ، ڈھیروں ڈھیر یاد بھرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہجر کے کرب سے ، یوں لَف سے ، نکل آئیں گے
یوں تو ہر طور سے جینے کا کمال آتا ہے
تری یاد کا نقش گہرا نہیں ہے
جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے
تری رعایا بڑی دیر سے عذاب میں ہے
شکریہ پھر بھی اے مرے خالق
پوچھا نہیں تھا ہم نے جوانی میں وقت کو
تیرے پیاروں کی اذیت کا سبب بنتے تھے
میرے صیاد کی مرضی تھی رہائی دے دے
اسے خبر ہے وہ جب جب گریز کرتا ہے

اشتہارات