وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے

وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے

برسرِ عام محبت کا تماشا مانگے

 

جسے پندار مرے ظرفِ محبت نے دیا

اب وہ پہچان محبت کے علاوہ مانگے

 

میں تو اسرافِ محبت میں ہوا ہوں مقروض

دوستی ہر گھڑی پہلے سے زیادہ مانگے

 

راحتِ وصل بضد ہے کہ بھلا دوں ہجراں

چند لمحے مجھے دے کر وہ زمانہ مانگے

 

مدّتیں گذریں کئے ترکِ سکونت لیکن

آج بھی دنیا اُسی گھر کا حوالہ مانگے

 

میں جہاں کھویا تھا شاید کہ وہیں مل جاؤں

کوئی مجھ کو غم دنیا سے دوبارہ مانگے

 

بٹ چکی درد کی جاگیر مگر تیرا غم

دل میں ہر روز نیا ایک علاقہ مانگے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں
مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری
نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا
جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے