اردوئے معلیٰ

Search

وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے

ہم بھی یوں ہی تو نہ مانے تھے سیانے نکلے

 

میں نے محسوس کیا جب بھی کہ گھر سے نکلا

اور بھی لوگ کئی کر کے بہانے نکلے

 

آج کی بات پہ میں ہنستا رہا ہنستا رہا

چوٹ تازہ جو لگی درد پرانے نکلے

 

ایک شطرنج نما زندگی کے خانوں میں

ایسے ہم شاہ جو پیادوں کے نشانے نکلے

 

تو نے جس شخص کو مارا تھا سمجھ کر کافر

اس کی مٹھی سے تو تسبیح کے دانے نکلے

 

کاش ہو آج کچھ ایسا وہ مرا مالک دل

میرے دل سے ہی مرے دل کو چرانے نکلے

 

آپ کا درد ان آنکھوں سے چھلکتا کیسے

میرے آنسو تو پیازوں کے بہانے نکلے

 

میں سمجھتا تھا تجھے ایک زمانے کا مگر

تیرے اندر تو کئی اور زمانے نکلے

 

لاپتہ آج تلک قافلے سارے ہیں امیرؔ

جو ترے پیار میں کھو کر تجھے پانے نکلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ