اردوئے معلیٰ

۔1۔
وہ بھی کیا دور تھا
ذہن کا آئینہ گرد آلود تھا
روحِ انسانیت ہو چکی تھی فنا
میکشی تھی ہنر
اور زِنا معتبر
سر سے تہذیب کے گر چکی تھی رِدا شرم و اخلاص کی
مر چکا تھا تمدّن بھی تاریخ کا
اور ڈوبی ہوئی تھی رگِ ارتقا
حکمراں تھیں جہالت کی تاریکیاں فکر و ادراک پر
تھا ہر اک گام پر شرک جلوۂ فگن
کفر تھا خندہ زن
 
وہ خدا جو کہ ہے احکم الحاکمیں
وہ جو ہے اصل میں خالقِ انس و جاں
جس نے ’کُن‘ کہہ کے عالم کو پیدا کیا
جس کے قبضے میں ہے سب کی موت و حیات
وہ جو دیتا ہے پتھر کے کیڑوں کو رزق
سارے انسان و حیواں کو رزق
چل رہا ہے ازل سے بِلا مشورہ
جس کے ادنیٰ اشارے پہ نظمِ جہاں
اس کی توحید کا اُڑ رہا تھا مذاق
 
فکرِ انساں ہوئی اس قدر منحرف
اس نے بڑھ کر صحیفوں میں تحریف کی
وہ تغیّر ہوا رب کے احکام میں
سب مذاہب کی شکلیں ہوئیں بد نُما
اک خدا کی جگہ
ہو رہی تھی عبادت کہیں مہر کی
پوجتا تھا کوئی شوق سے چاند کو
ہو رہی تھی پرستش کہیں آگ کی
کوئی پانی کو سمجھے ہوۓ تھا خدا
جہل اتنا بڑھا
فکرِ گستاخ نے ان گنت چُن لئے پتھّروں کے خدا
اس کا مرکز زمینِ عرب بن گئی
جس کے ہر گام پر تھا خدا ہر قبیلے کا بیٹھا ہوا
ان میں کوئی ہبل کا پرستار تھا
زلفِ عزّیٰ میں کوئی گرفتار تھا
کوئی دیوانۂ نائلہ و اساف
چومتا تھا کوئی روئے لات و منات
اس طرح ہر طرف
غلبۂ بت پرستی تھا چھایا ہوا فہم و ادراک پر
ہو رہی تھی پرستش خدا کی جگہ بت کی شکلوں میں انسان کی
انتہا یہ کہ ان کی خوشی کے لۓ
جشنِ عیش و مسرّت کا تھا اہتمام
اور اس جشن میں
تھا رسومِ جہالت کا اک اژدہام
تھی عقیدت کی یہ انتہا
عاجزی، انکساری کے ساتھ
ان بتوں کے مقابل تھا ننگا کھڑا ہر کوئی
تالیوں کی نِدا، سیٹیوں کی صدا اس پہ تھی مستزاد
 
حد سے جب بڑھ گئیں شرک و سرمستیاں
جہل و عیّاریاں، کفر و مکّاریاں
ایسے ماحول میں
غیرتِ حق کو حرکت ہوئی دفعتاً
اس نے بھیجا زمیں پر وہ آخر نبی
جس کی تخلیق تھی باعثِ کن فکاں، ماورائے گماں
یعنی وہ داعئِ حق جو در اصل تھا
مقبلِ مقبلاں، سرورِ عرشیاں، ہادئ انس و جاں
مرسلِ مرسلاں، مونسِ بے کساں، پیشواۓ زماں
شاہدِ ذو المنن، فخرِ شان و زمن
ابرِ فیض و کرم، آفتابِ ہُمم
ابتدا انتہا، بحرِ جُود و سخا، مظہرِ کبریا
 
۔2۔
 
قدم کس نے رکھا فرشِ زمیں پر
ادب سے جھک گۓ محراب و منبر
ملائک گا رہے ہیں نعتیہ گیت
کھُلے جبریل کے خوشیوں میں شہپر
ہوا خوشبو سے یوں ہے مست و بے خود
زمیں کا گوشہ گوشہ ہے معطّر
نسیمِ صبح گزری ہے جدھر سے
چھڑکتی جا رہی ہے مشک و عنبر
یہ کیسی روشنی پھیلی جہاں میں
ہی شرمندہ ضیاۓ ماہ و اختر
حیا و شرم سے ہے پانی پانی
فلک پر روۓ خورشیدِ منوّر
وہ نورِ معرفت پھیلا ہے ہر سو
ہے روشن ذرّہ ذرّہ مثلِ گوہر
ہر اک جانب مسلسل آ رہی ہے
صداۓ نعرۂ اللہُ اکبر
صدا سن کر ہبل گھبرا رہا ہے
لرزتے ہیں سبھی اصنامِ آذر
کیا آتش کدے کو سرد اپنے
اُٹھا وہ اہرمن میں شورِ محشر
ہوا دریاۓ سادہ خشک مطلق
تحیّر میں ہیں کسریٰ کے ثناگر
گِرہ غش کھا کے شانِ روم و یوناں
ہوۓ معذور ایراں کے دلاور
ہر اک فتنہ ہے پوشیدہ جہاں کا
پہن لی جہل نے رحمت کی چادر
جدھر دیکھو فضا میں اُڑ رہے ہیں
سکوں سے امنِ عالم کے کبوتر
یتیم و بے کس و مفلس ہیں شاداں
تبسّم ہے غلاموں کے لبوں پر
اخوّت کی ہوائیں چل رہی ہیں
مقیّد ہو گۓ گھر میں ستم گر
ہیں مستی میں جمادات و نباتات
دُرودِ پاک ہے ان کی زباں پر
ہے آخر کون یہ اس آمنہ کا
ہوا آمد سے جس کی گھر منوّر
نِدا آئی یہ ہے ذاتِ محمّد
نبئِ آخری، حق کے پیمبر
یہی ہیں پاسبانِ شمعِ توحید
کہو ظلمت سے باندھے اپنا بستر
 
۔3۔
 
دل میں شرک کے خلش
لمحہ لمحہ پُر کشِش
نور نور آسماں
پر حسیں جہانِ شش
سرد سرد ہو گئی
ریگزار کی تپش
داعیِ الٰہ کی
ہو رہی ہے پرورش
 
خوش ہیں سارے دیدہ ور
طیش میں ہیں کم نظر
وجد میں زمین ہے
رقص میں شجر حجر
جس طرف بھی دیکھۓ
ہنس رہی ہے رہ گزر
مرکزِ جمال ہے
اے حلیمہ تیرا گھر
 
وقت ہے رواں دواں
ہو گیا ہے اب جواں
اوڑھ کر رِداۓ قدس
دینِ حق کا پاسباں
سچ کا جو ثبوت دیں
مل رہے ہیں وہ نشاں
 
دامنِ جیاد میں
چر رہی ہیں بکریاں
تھم گیا یہ سوچ کر
بے مثال گلّہ باں
کون اس جہان کا
اصل میں ہے پاسباں
کس کے حکم کے مطیع
ہیں زمین و آسماں
آب و بادِ تازہ ہے
کس کے حکم سے رواں
اور کس کے حکم سے
بہہ رہی ہیں ندّیاں
بحرِ بے کنار میں
چل رہی ہیں کشتیاں
ہو رہی ہیں بارشیں
چھا رہی ہیں بدلیاں
آسماں کے فرش پر
ہنس رہی ہے کہکشاں
مہر و مہ سفر میں ہیں
روز و شب کے درمیاں
کس کے حکمِ خاص سے
اُگ رہی ہیں کھیتیاں
سوچ کا یہ سلسلہ
ہے یقینِ جاوداں
 
سوچ کا ہے یہ عمل
عادتِ پیمبراں
 
۔4۔
 
تلاش و جستجوۓ علمِ حق حِرا میں لے گئی
وہاں بھی سوچتے رہے
سوال در سوال روز خود سے پوچھتے رہے
گزر رہے تھے روز و شب
اسی خیال و فکر میں
کہ ایک دن حِرا کی غار دفعتاً چمک اُٹھی
پھر ان کی چشمِ خوف نے ہیولا دیکھا نور کا
بدن میں اس کو دیکھتے ہی کپکپی سی چھُٹ گئی
حواس باختہ ہوۓ
بہت ہی مضطرب ہوۓ
ہیولا نور کا تھا اصل میں فرشتۂ خدا
جو کہہ رہا تھا ’پڑھ
جواب اس کو یہ دیا
پڑھا لکھا نہیں ہوں میں
لگا کے اپنے سینے سے
دبایا اس نے زور سے
کہا کہ پڑھ
جواب پھر وہی دیا
پڑھا لکھا نہیں ہوں میں
تو اس نے اب کے بار سینے سے لگا کے بھینچا اور زور سے
کہا کہ
اپنے ربّ کا نام لے کے پڑھ
کیا ہے جس نے پیدا انس کو
کیا لہو کے لوتھڑے سے پیدا جس نے انس کو
پڑھ کہ تیرا رب بڑا کریم ہے
عطا کیا ہے جس نے علم بالقلم
پھر آدمی کو بخشے علم وہ، جنھیں وہ جانتا نہ تھا
اسی کے ساتھ آپ نے
تمام آیتیں پڑھیں
ملی یقیں کی روشنی
وحی کا سلسلہ تھما تو جسم کانپتا رہا
کہ واقعہ عجیب تھا
لرز رہا تھا سارا جسم خوف و اضطراب سے
عرق عرق جبین تھی
ہوا یہ حال قلب کا
نہ رُک سکے حرا میں وہ
قدم بڑھا کے تیز تیز
اپنے گھر کو آ گۓ
اور بیوی سے کہا
خدیجہؓ ڈھانپ لو مجھے
خدیجہؓ ڈھانپ لو مجھے
لحاف میں لپیٹو مجھ کو جلد ڈھانپ لو مجھے
مرے بدن پہ چھِڑکو ٹھنڈا پانی جتنا ہو سکے
خدیجہؓ نے یہی کیا
یہاں تلک کہ خوف کا اثر خفیف ہو گیا
تو سارا ماجرا کہا
اور اس کے ساتھ یہ کہا
خدیجہؓ! مجھ کو اپنی جان جانے کا بھی ہے خطر
خدیجہؓ نے تسلّی دی
اور ابنِ عم کے پاس اپنے ساتھ ان کو لے گئیں
سنی جو داستان ورقہ نے تو برملا کہا
یقیناً آپ ہیں نبی
وہ شخص جس کو دیکھا ہے۔ وہ تھا فرشتۂ خدا
اگر میں زندہ رہ گیا
تمھاری ہر طرح سے میں مدد کروں گا شوق سے
ہراس و خوف چھا چکا تھا اس قدر مزاج میں
کہ اس کے بعد گھر میں ہی مقیم آپ ہو گۓ
حرا کو بھول سے گۓ
مگر نہ پیچھا چھٹ سکا
وحی نے پھر یہ دی صدا
’لحاف میں لپٹ کے سونے والے
اُٹھ ، سُنا دے ڈر
بڑائی کر بیان اپنے ربِّ ذو الجلال کی
اور اپنے کپڑے پاک رکھ
بتوں سے دور دور رہ
کسی کو اس لۓ نہ دے کہ اور منفعت ملے
خدا کی راہ میں ہر ایک غم خوشی سے جھیل لے
وحی کی ابتدا کے ساتھ
رسولِ آخریں کا آپ کو جوں ہی شرف ملا
وحی کا سلسلہ چلا
 
۔5۔
 
نبی کا جب شرف پایا تو اس انسانِ کامل نے
خموشی، سادگی، سنجیدگی، حسنِ متانت سے
دی سب سے پہلے گھر والوں کو دعوت دینِ فطرت کی
خدا کا شکر کہ بیعت کیا پہلے خدیجؓہ نے
پھر ان کے بعد
علیؓ و زید بن حارثؓ، ابو بکرِ قحافہؓ نے
پڑھا کلمہ صداقت کا
دی دعوت دین کی بو بکرؓ نے جب دوستوں کو
تو ان کی کوششوں سے
زبیرؓ، عثمانؓ، طلحہ ابن عوفؓ اور سعدؓ نے
خم کی جبیں اپنی
خداۓ واحد و قہّار کے آگے
پھر اس کے دائرے میں اور کچھ وسعت ہوئی پیدا
عبیدہؓ، ارقمؓ و خُبّابؓ
اور عثمان بن مظعونؓ
صہیبؓ، عمّارؓ و بن جراحؓ
سعیدؓ
عبداللہ بن مسعودؓ
ہوۓ اسلام میں داخل
یہ چھوٹی سی جماعت بن گئی توحید کی داعی
مگر دعوت کا تھا انداز مخفی حق پرستوں کا
وہ چھپ چھپ کر خدا کے دین کی تبلیغ کرتے تھے
خموشی سے عبادت وہ خدا کی روز کرتے تھے
اسی عالم میں گزرے تین سال
پھر آیا حکمِ ربّانی
’ملا جو کچھ ہے مِن جانبِ اللہ، سنا دو تم
ڈرو مت مشرکوں سے، برملا ان کو بتا دو تم
 
تو اس کے بعد چوٹی پر صفا کی ایک دن آۓ
اسی چوٹی سے یوں نعرہ لگایا ’یا صباحاہ ‘ کا
کہ نعرہ سن کے خلقت دوڑتی کوہِ صفا آئی
اور ان کے روبرو
کیا اعلانِ حق انسانِ کامل نے
کہا پہلے
اگر میں یہ کہوں تم سے
کہ اس کہسار کے پیچھے
چھپی ہے دشمنو کی فوج تم پر وار کرنے کو
تو کیا تم مان جاؤ گے؟
کہا سب نے
’بِلا شک و شبہ اس بات کو ہم مان جائیں گے
کہ صادق اور امیں ہو تم
کہا پھر برملا ان سے:
’ہبل بے جان پتھّر ہے
نہ پوجو تم یغوث و لات و عزّیٰ کو
خداۓ واحد و قہّار پر ایمان لے آؤ
اسی کے سامنے اپنا جھکاؤ سر
وگرنہ آۓ گا تم پر
عذابِ سخت اک ایسا
بچا پائیں گے یہ پتھّر نہ تم کو اس کے پنجے سے
سنی جب یہ صدا سب نے
تو مجمع ہو گیا گم صم
مگر بو لہب سن کر جل گیا اس دعوتِ حق کو
کہا اس نے
’تباہی آۓ تجھ پر
کیا یہی پیغام دینے کو ہمیں تو نے بلایا تھا؟
خدا نے دوسری لیکن بشارت دی
کہ ’ٹوٹیں بو لہب کے ہاتھ
ہو جاۓ وہ خود غارت
نہ کام آۓ گا اس کا مال اس کو
جلایا جاۓ گا اس کو دہکتی آگ میں جلدی
اُٹھائے گی خود اس کی بیوی اپنے سر پہ خشک ایندھن
پڑی ہوگی گلے میں
اس کے رسّی مونجھ کی اک دن
 
۔6۔
 
زبانِ تاریخ کہہ رہی ہے
وہ دیکھو مکّہ کے کونے کونے سے حق کی آواز آ رہی ہے
ہر ایک دن لا رہا ہے اک انقلابِ تازہ
یہ دیکھ کر مشرکینِ مکّہ مخالفت پر اتر گۓ ہیں
وہ اپنے سارے نِفاق بلاۓ طاق رکھ کر
نیا محاذ اک بنا رہے ہیں
زبانِ تاریخ کہہ رہی ہے
وہ دیکھو صحنِ حرم میں جلسہ ہے مشرکوں کا
وہ گفتگو کر رہے ہیں باہم
جو شخص دشمن بنا ہوا ہے ہمارے دیں کا
وہ یا تو کاہن ہے، ہا تو شاعر ہے
یا ہے پاگل
ہے اس کے سر پر جِنوں کا سایہ
وحی و الہام کہہ رہا ہے وہ اپنے ہذیان کو سراسر
بتوں سے ہم کیسے رشتہ توڑیں
شراب سے کیسے منہ کو موڑیں
یہیں پہ مرنا ہے اور جینا یہیں ہے سب کو
غلط ہے مرنے کے بعد اعمالِ بد کے بدلے ملے گی دوزخ
ملے گی جنّت خدا ۓ واحد کی بندگی میں
یہی تو دنیا ہے اصل جنّت
پیو، کرو عیش
لات و عزّیٰ ہبل کے ساۓ میں بے تکلّف
کہ لات و عزّیٰ ہبل کی باتوں کو مانتا ہے خداۓ مطلق
 
زبانِ تاریخ کہہ رہی ہے
وہ دیکھو عمِّ رسول کے گھر
لئے شکایت کا ایک دفتر
گئے ہیں سب مشرکینِ مکّہ
وہ ان کو دھمکی بھی دے رہے ہیں
شفیق اور محترم، چچا، محترم بھتیجے سے کہہ رہا ہے
نہ ڈالو تم اتنا بوجھ مجھ پر
اُٹھا سکوں جس کو میں نہ ہر گز
یقیں کی دنیا میں رہنے والا یہ کہہ رہا ہے
’قسم خدا کی
اگر وہ شمس و قمر کو ہاتھوں میں لا کے رکھ دیں
تو میں نہ چھوڑوں گا اس مِشن کو
 
زبانِ تاریخ کہہ رہی ہے
وہ دیکھو راہِ رسول میں بو لہب کی بیوی
غلاظتیں، گندگی بچھاتی ہے روز لا کر
رسولِ اکرم حرم میں مصروفِ بندگی ہیں
وہ دیکھو عقبہ رسول کی گردنِ مبارک میں پھندہ ڈالے
گھسیٹتا ہے
حضور گھٹنوں کے بل گِرے ہیں
مدافعت کی جو بو بکر نے
تو ان پہ غصّہ اتر رہا ہے
حرم میں سجدے کی کیفیت میں
رسول کی پشتِ نازنیں پر
وہ دیکھو عقبہ معیط اک اونٹ کی گراں اوجھ رکھ رہا ہے
 
زبانِ تاریخ کہہ رہی ہے
وہ دیکھو نکلا رسول کی معتبر زباں سے جو حرفِ صادق
اڑا رہے ہیں قریشِ مکّہ مذاق اس کا
وہ گالیاں دے رہے ہیں پیہم
وہ سیٹیاں بھی بجا رہے ہیں
کبھی وہ سنگِ ستم سے کرتے ہیں جسمِ اطہر کو ان کے زخمی
مگر صداقت کے لب پہ جاری یہی دعا ہے
’الٰہی ان کی خطائیں ساری معاف کر دے
انھیں عطا کر تو فہم و دانش کا درِّ روشن
خرد کی دولت
زبانِ تاریخ کہہ رہی ہے
 
۔7۔
 
اس اندھیرے میں حکمِ قدرت سے
ہر نفس روشنی بکھرتی رہی
روز اک تازہ آیتِ روشن
سچ کی تائید میں اترتی رہی
 
اہلِ مکّہ مگر تھے وہ وحشی
جن کا دل مرکزِ جہالت تھا
سچ کو تسلیم کیسے کر لیتے
ان کا شیوہ فقط شرارت تھا
 
وہ صداقت کو کیسے سن لیتے
کان رکھتے ہوۓ بھی بہرے تھے
اور حقائق کو مانتے کیوں کر
عقل کے اصل میں وہ اندھے تھے
 
اہلِ حق کے لۓ وہ کرتے رہے
روز مشقِ ستم نئی ایجاد
تاکہ توحید کی عمارت کی
رکھ نہ پائیں زمیں پہ وہ بنیاد
 
ظلم کی انتہا جو ہونے لگی
جب ستم حد سے بڑھ گیا آگے
تو ملا حکمِ ہجرتِ یثرب
اہلِ ایماں کو عرشِ اعظم سے
 
حکم ملتے ہی داعئِ حق نے
اس کا چپکے سے اہتمام کیا
کئی احباب کو کیا رخصت
خود سفر کا پھر انتظام کیا
 
نکلے تاریک شب میں وہ گھر سے
اپنی مُٹھّی میں مِٹّی کچھ لے کر
پھینکی دشمن کی سمت وہ مِٹّی
سورہ یٰسین اس پہ دم دے کر
 
اس طرح صاف داعئِ توحید
حلقۂ شرک توڑ کر نکلا
لے کے صدّیق کو خموشی سے
شاہراہِ یمن پہ آ پہنچا
 
مصلحت غارِ ثور لے آئی
تین دن تک وہیں رہے روپوش
گلّہ بانی کی آڑ میں عامر
لاتے اشیاء براۓ خورد و نوش
 
جب محمد نہ مل سکے تو قریش
ہو گۓ اپنے آپے سے باہر
تیغ زن ہر طرف روانہ کۓ
ان کو انعام کا سبو دے کر
 
کر رہے تھے تلاش وہ اس کو
تھا خدا کا جو حامی و ناصر
وہ جواں ثور تک جونہی آۓ
دفعتاً معجزہ ہوا ظاہر
 
غار کے منہ پہ حکمِ قدرت سے
ایک مکڑی نے بُن دیا جالا
اور وحشی کبوتروں نے بھی
آشیانہ بنا لیا اپنا
 
جب نظر آۓ مشرکیں کے قدم
تو پریشاں رفیقِ غارؓ ہوا
دیکھ کر یہ رسولِ حق نے کہا
غم نہ کر ساتھ ہے ہمارا خدا
 
بس وہی ہے محرّکِ ہجرت
بس وہی مدّعا ہمارا ہے
ہم نہیں دو کہ تیسرا ہے خدا
وہ خدا رہنما ہمارا ہے
 
دیکھ کر غارِ ثور کی حالت
کھا گۓ دھوکا مردمانِ قریش
آتشِ شرک میں بذاتِ خود
راکھ جل کر ہوا گُمانَ قریش
 
۔8۔
 
ہوا یثرب میں جب داخل
کمالِ بیعتِ عقبہ
نمایاں ذرّے ذرّے سے
رسول اللہ نے دیکھا
نظر جس سمت جاتی تھی
ہجومِ عاشقاں پایا
گزر گاہوں مکانوں سے
وہ شورِ مرحبا گونجا
کہ اس آوازِ پیہم سے
وجودِ شرک تھرّایا
چمکتا تھا مسرّت سے
ہر اک انصار کا چہرا
اور ان کی بچّیاں خوش تھیں
یہ ان کے لب پہ تھا نغما
’وداع کی آج گھاٹی سے
وہ دیکھو چاند ہے نکلا
ہے واجب شکر ہم سب پر
اٹھا دستِ دعا اپنا
اطاعت جس کی لازم ہے
ہمارے درمیاں آیا
 
۔9۔
 
رسولِ حق کی آمد سے نیا اک انقلاب آیا
مدینے میں ہوا تبدیل یثرب، نورِ حق چھایا
جو پھیلا نورِ حق ایمان کی شمعِ منوّر سے
ہوۓ انسان واقف نیک و بد سے، خیر اور شر سے
چھٹی گردِ جہالت قصر و ایوانِ رعونت سے
مصفّا روحِ انسانی ہوئی شرک و خباثت سے
یقیں کا نور چمکا، روشنی ایمان کی آئی
خوشا دم توڑتی انسانیت نے زندگی پائی
کچھ اس انداز سے بارانِ رحمت اس جگہ برسا
مسلسل جنگ کا پر ہول شعلہ ہو گیا ٹھنڈا
مساوات و محبّت کی نسیمِ جاں فزا آئی
کئی برسوں کے دشمن بن گۓ آپس میں اب بھائی
ہوا پیماں اخوّت کا سب انصار و مہاجر میں
حسد کی آگ بھڑکی دیکھ کر یہ قلبِ فاجر میں
مدینہ بن گیا تبلیغِ دینِ حق کا وہ محور
اٹھا جو بھی یہاں سے جگمگایا کہکشاں بن کر
ہوئی تعمیر مسجد حق کے آگے سر جھکانے کو
خُدا کے دین کے احکام منبر سے سنانے کو
ہوا پھر حکم نازل عرش سے تحویلِ قبلہ کا
بجاۓ اقصیٰ کعبے کی طرف لوگوں نے رخ پھیرا
خدا کا عشق جب دل میں ہر اک کے ہو گیا کامل
تو احکام صیام آیات کی صورت ہوۓ نازل
یہاں ناقوس، گھنٹہ، برق، مشعل کے عوض گونجا
بلالی سوز میں اللہ اکبر کا جواں نعرا
یہ نعرہ وادئِ مکّہ کی چٹّانوں سے ٹکرایا
تو اہلِ مکّہ نے توحیدِ حق پر کر دیا حملہ
 
۔10۔
 
آواز دی قریش نے لوگو چلو بڑھو
توحیدِ حق یہ فتنۂ محشر جگاۓ گی
لازم یہی ہی اس کا مٹا دیں وجود ہم
ورنہ وجودِ شرک یہ آندھی مٹاۓ گی
 
یہ سن کے مشرکین چلے بدر کی طرف
بڑھ کر بجھا دیں دہر سے شمعِ یقین کو
پائی خبر تو داعئِ حق گامزن ہوا
یثرب سے خود بچانے چراغِ متین کو
 
اک سمت اک ہزار کا لشکر اور اس کے ساتھ
سامانِ انبساط و سرورِ مۓ حرام
اور دوسری طرف تھے فقط تین سو نفوس
جن کا اثاثہ یہ تھا کہ لب پر خدا کا نام
 
داعی نے مشرکین کی طاقت کو دیکھ کر
رب کے حضور میں کیا دستِ دعا دراز
مانگی دعائیں اتنے خشوع و خضوع سے
جھکتا تھا انکسار سے پیہم سرِ نیاز
 
کہتا رہا یہی وہ خدا سے کہ ’اے خدا
گر ہو گئی فنا یہ جماعت جہاں سے آج
روۓ زمیں پہ تیری عبادت کرے گا کون
قائم رہے گا حشر تلک شرک ہی کا راج
 
تو نے کیا ہے وعدہ جو مجھ سے، وہ کر وفا
یہ التجا ہے تجھ سے مدد بھیج اس گھڑی
رو رو کے بس دعا یہی کرتا رہا رسول
اس حال میں کہ چادرِ اقدس بھی گر پڑی
 
اس اضطرابیت کو یوں حاصل ہوا قرار
آنکھیں سوادِ خواب سے معمور ہو گئیں
پھر آئی آسماں سے بشارت نوید کی
جو ذہن و دل کی الجھنیں تھیں، دور ہو گئیں
 
خوش خوش مثال تیر کی نکلا عریش سے
یوں حوصلہ بڑھایا رسولِ کریم نے
جو ڈٹ کے دشمنوں کا کرے گا مقابلہ
بے شک جگہ وہ پاۓ گا باغِ نعیم سے
 
یہ سن کے آگ جنگ کی زیادہ بھڑک اٹھی
ایسے میں سنگریزے اٹھا کر خدا شعار
دشمن کی سمت پھینک کے بولا ’اے ابتری
ان منکرینِ حق و صداقت کا کر شکار
 
اترے فرشتے حکمِ اِلٰہی سےء صف بہ صف
اک سیلِ نور بڑھنے لگا اس زمین میں
ایسی لگائی ضرب کہ گم ہوش ہو گۓ
خوف و ہراس پھیل گیا مشرکین میں
 
بھولے قریش سارے کمالاتِ فنِّ حرب
ہمّت، یقین، جوش، محبّت کو دیکھ کر
ڈوبے تمام اس میں جہالت کے تاجور
 
۔11۔
 
یوم  الفرقان
بدر کا میدان
بن گیا توحید و شرک
جھوٹ اور سچ کا حسیں میزان
کھل گیا دروازۂ فتح و ظفر حق کے لۓ
رہ گئی شرک و جہالت دم بخود
دیکھ کر ہمّت، یقیں، ایمان اور شوقِ جہاد
 
آندھیاں آئیں احد تک شرک کی
جہل کا حمل ہوا احزاب تک
پھر بھی جلتی ہی رہی شمعِ یقیں
جگمگاتی ہی رہی شمعِ خلوص
مسکراتی ہی رہی شمعِ وفا
اور شرک و جہل کا سارا نظام
خود ہی اپنی آندھیوں میں کھو گیا
مٹ گیا اس کا وجود
 
داعئِ حق
دس ہزار افواجِ اسلامی کے ساتھ
چل پڑا چپ چاپ
شرک کے مردہ گلے لاشے سے کرنے کعبۂ اقدس کو ساف
دیکھ کر ایمان کا جوش و خروش
صف بہ صف توحید کی فوجِ عظیم
مشرکیں نے کھو دۓ ہوش و حواس
 
فتح کا انداز ہے رحمت لۓ
نعرۂ لبّیک ہے وردِ زباں
لا الٰہ کی ضرب سطحِ قلب پر
لب پہ الا اللہ کا ذکرِ جمیل
اہلِ مکّہ نے سنی جب یہ صدا
ہو گۓ اوسان تک ان کے خطا
کچھ ہوۓ روپوش بیت اللہ میں
کچھ مقیّد اپنے گھر میں ہو گۓ
اور ابو سفیاں نے دی ان کو پناہ
 
پھر صدا گونجی فضاۓ عرش میں
کفر کی بستی میں گونجی یہ ندا
’آج ہوگی بارشِ رحمت یہاں
اور خداۓ واحد و یکتا صفات
آج کے دن دہر میں چمکاۓ گا
عظمتِ کعبہ و توقیرِ قریش
 
امن کے ماحول میں
قتل و غارت کے بغیر
ہو گیا داخل حرم میں وہ بشیر
دعوتِ توحید تھی جس کا مِشن
 
کر کے کعبے کو بتوں سے پاک و صاف
جھک گیا واحد خدا کے سامنے
کھل اٹھی نطقِ وحی یہی دیکھ کر
’آ گیا حق اور باطل مٹ گیا
کیوں کہ باطل مٹنے والی چیز تھی
 
جب ہوا فارغ بتوں کو توڑ کر
بابِ کعبہ تھام کر کہنے لگا
اک خدا کے ماسوا مطلق نہیں کوئی خدا
 
وہ خدا جس کا نہیں کوئی شریک
اس نے اپنا وعدہ سچّا کر دیا
یاد رکھّو
سب مفاخر اور سارے انتقام و خوں بہا
ہیں مرے قدموں تلے
اے قریش
اب جہالت کا غرور اور نسب کا افتخار
ان سبھوں کو روند دالا ہے خدا نے آج
نسلِ آدم ہی سے ہیں انسان سب
جن کی ہے بنیاد خاک
اور اس کے بعد پھر
نرم لہجے میں کیا یہ اہلِ مکّہ سے خطاب
’آج تم سب پر نہیں الزام کچھ۔۔۔
جاؤ تم آزاد ہو
اس طرح
بد تریں دشمن کو اپنے کر دیا دل سے معاف
آیا جب وقتِ نماز
سقفِ کعبہ پر چڑھے حبشی بلال اور دی اذان
نعرۂ توحید سے پھیلا جہاں میں ارتعاش
آ گیا بزمِ جہاں میں انقلاب
 
۔12۔
 
مصفّا ہو گیا جب دل
غبارِ شرک اور گردِ جہالت سے
اجالا چھا گیا جب ہر طرف توحید کی شمعِ فروزاں کا
مشیّت ہو گئی تکمیل جب رب کی
تو اس کے حکم سے
ادا کرنے چلا حج الوداع
غرض یہ تھی
پرستارانِ خدا کو
سکھائیں دین کی باتیں
مناسک حج کے سمجھائیں
کریں ان کو نصیحت آخری اپنی
روانہ جب مدینے سے ہوا تو ایک لاکھ انسان تھے ہمراہ اس کے
لبوں پر جن کے تھے کلماتِ لبّیک
پہنچ کر خانۂ کعبہ کیا پہلے طوافِ سنگِ اسود
لگاۓ سات چکّر۔۔۔
چار جلدی۔۔ تین آہستہ
پھر اسکے بعد
چڑھا کوہِ صفا پر
سعی مروہ صفا کے درمیاں کی
اسی انداز سے لبّیک کہہ کہتے
نہم ذو الحجّہ کو عرفات آیا
دیا یوں ناقۂ قصوا سے خطبہ
 
’اے لوگو
میں جو کہتا ہوں
اسے تم غور سے سن لو
مبادا سالِ آئندہ
یہاں تم سے کبھی پھر مل نہ پاؤں
 
’سنو لوگو
قیامت تک کیا ہے جان و مال آپس میں تم سب کا خدا نے اب حرام
تمھارے پاس اگر کوئی امانت ہو تو لوٹا دو
ہے سارا سود باطل
مگر بس یہ کہ راس المال ہے بس حق تمھارا
کرو تم ظلم مت مطلق کسی پر
نشانہ مت بنو ظلم و ستم کا
یہی ہے فیصلہ رب کا کہ سارا سود باطل ہے
’اے لوگو
 
بہت مایوس ہو گا دیکھ کر شیطان یہ حالت
کہ اس کی اس زمیں پر
اب قیامت تک کبھی ہوگی نہ پوجا
مگر اس کے علاوہ دوسری باتوں میں اس کی پیروی ہوگی
تو وہ اس سے بھی خوش ہوگا
پس اپنے دین کے بارے میں
اس سے باخبر رہنا
’اے لوگو
 
تمھاری بیویوں پر ہے تمھارا حق
اور ان کا بھی ہے تم پر حق
یہ باتیں دھیان میں رکھنا
 
’اے لوگو
گرہ میں بات یہ مضبوط کس لو
تمھیں وہ شے میں دے کر جا رہا ہوں
اگر پکڑے رہے مضبوط اس کو
کبھی گمرہ نہیں ہو گے یقیناً تم
کھلی اور صاف شے۔۔ یعنی کتاب اللہ
کھلی اور صاف شے۔۔ یعنی مری سنّت
 
’اے لوگو
سنو سمجھو مری باتیں
کہ ہے ہر اک مسلماں بھائی آپس میں
ہیں جتنے بھی مسلماں اصل میں ہیں ایک امّت
نہیں ہے کوئی شے تک بھی حلال اک آدمی کے واسطے اک آدمی کی
بجز اس کے کہ جو وہ دل سے دے دے
پس اپنے آپ پر مت ظلم ڈھاؤ
 
’اے لوگو
غلاموں پر ترس کھاؤ
جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ تم
جو خود پہنو، وہی پہناؤ ان کو
 
’اے لوگو
سنو
اللہ تمھارا ایک ہی ہے
نہ ہے عربی کو عجمی پر فضیلت
نہ عجمی کو ہے عربی پر فضیلت
نہ کالے کو ہے گورے پر فضیلت
نہ گورے کو ہے کالے پر فضیلت
فقط تقویٰ ہی ہے وجہِ فضیلت
 
’اے لوگو
بس اک اللہ کو پوجو
پڑھو دل سے نمازِ پنج گانہ
رکھو رمضان کے روزے
کرو احکام کی میرے اطاعت
ملے گی اس کے بدلے
خدا کی جنّت الفردوس تم کو
 
’اے لوگو
تم گواہ رہنا
خداوندا گواہ رہنا
مرے ذمّے جو تھا وہ فرض پورا کر دیا میں نے
ہوا جب ختم یہ خطبہ
مخاطب کر کے لوگوں کو
یہ بولا
’یہاں جو لوگ حاضر ہیں
وہ یہ باتیں بتا دیں ان سبھوں کو جو یہاں حاضر نہیں ہیں
 
مقام صخّرات آیا تو اتری آیتِ تکمیلِ دیں
ہر اک شے رقص میں آئی جہاں کی
’مکمّل کر دیا ہم نے تمھارا دیں
اور اپنی نعمتیں کر دیں مکمّل آج تم پر
تمھارے واسطے ہم نے کیا ہے
انتخاب اسلام ہی مذہب
 
صحابہؓ نے سنی جوں ہی خبر تکمیلِ دیں کی
تو روحانی مسرّت کا سماں ہر سمت چھایا
ہر اک چہرہ مسرّت سے چمکتا تھا
مگر اک شخص تھا مغموم بے حد
سبب یہ تھا کہ اس آیت کا وہ ادراک رکھتا تھا
قریبی ساتھیوں سے رو کے بولا
’خبر بھی ہے تمھیں اب داعئِ حق جانے والا ہے
 
۔13۔
 
جب آیا وقتِ آخر
تو نکلے نطقِ ہادی سے وہ جملے مثلِ گوہر
جو خط اک امتیازی کھینچتے ہیں عبد اور معبود کے بیچ
’دہک اٹھی ہے آتش
اندھیری رات کی مانند
نئے فتنے امڈتے آ رہے ہیں
قسم اللہ کی
بجز فرمان کے میرے تمسّک تم نہ کرنا اور شے سے
قسم اللہ کی اس پر بھی کھاتا ہوں
کہ جو کچھ بھی کیا میں نے حلال
وہ قرآں کے مطابق ہی کیا ہے
بتایا جس کو قرآں نے حرام
حرام اس شے کو میں نے بھی کہا ہے
ہے ایسی قوم پر لعنت خدا کی
بنا لیتی ہے جو مرکز عبادت کا قبورِ انبیاء کو
 
خلاصہ ہے یہی تعلیم کا
اس کی خدا کا جو نبیِ آخری تھا
اسی کے واسطے جھیلیں ستم کی سختیاں اس نے
اسی کے واسطے سنگِ ملامت جسم پر کھاۓ
کیا برداشت ہجرت کی صعوبت کو
جفا و ظلم کے ہر تیز نشتر کو دعا دے کر
 
وہ ختم المرسلیں
وہ محورِ تقویٰ
تھا چہرے پر یقیں کا نور جس کے
لہو کے قطرے قطرے میں تھی ایماں کی حرارت
خود اپنے عزم و ہمت کے سہارے
چراغِ معرفت کو تھام کر بڑھتا رہا آگے
شقاوت سے بھری پر خار راہوں پر
لۓ ایمان کی دولت
زباں پر نعرۂ اللہ اکبر
یہ مقصد تھا
کہ دنیا سے جہالت، شرک کی تاریکیاں معدوم ہو جائیں
خدا کو لوگ پہچانیں
گزاریں زندگی اپنی سکون و عافیت سے
 
ہوا دنیا سے جب رخصت
فضا کو چیر کر آواز یہ آئی
’جو کرتے ہیں محمّد کی عبادت
انھیں معلوم ہو وہ جا چکے ہیں
مگر کرتے ہیں جو رب کی عبادت
وہ رب زندہ ہے
اس پر موت وارد ہو نہیں سکتی
 
یہ وہ الفاظ ہیں جن کی وحی تصدیق کرتی ہے
’نہیں ہیں کچھ محمّد
فقط وہ تو پیمبر ہیں خدا کے
پیمبر ان سے پہلے بھی ہوۓ ہیں
اگر ہو جاۓ ان کی موت واقع
شہادت یاب ہو جائیں اگر راہِ خدا میں
تو کیا پھر جاؤ گے تم راہِ حق سے؟
جو پھر جاۓ گا الٹے پاؤں راہِ دینِ حق سے
نہیں کر پاۓ گا نقصان وہ ہر گز خدا کا
مگر جو لوگ شاکر ہیں
ثواب و اجر سے بے شک خدا ان کو نوازے گا
 
خدا کا وہ فرستادہ نبی امّی لقب تھا
وہ جس کے دم قدم سے حق ہوا روشن
گیا باطل جہاں سے
جلی شمعِ یقین و عزم و توحید
ہوئی شرک و ضلالت ریزہ ریزہ
لباسِ جہل کے بدلے
لباسِ علم پہنا اہلِ دنیا نے
ملی دم توڑتی انسانیت کو زندگانی
مساوات و اخوّت کی فضا قائم ہوئی پھر سے جہاں میں
لی انگڑائی تمدّن نے
ملی تہذیب کو ال ایسی قوّت
کہ اس سے انقلابِ نو بہ نو آیا وہ دنیا میں
ہیں جس کو دیکھ کر
مورّخ محوِ حیرت ہر زمانے کے
 
۔14۔
 
زمانہ گھوم کر پھر آ گیا ہے
جہالت شرک کی پر ہول وادی میں
مگر کچھ عقل کے اندھے اسے تہذیبِ نو کا نام دیتے ہیں
بتاتے ہیں تمدّن کی ترقّی یافتہ صورت اسے
ہنر فہم و فراست کا اسے اپنا سمجھتے ہیں
جھکاتے ہیں وہ سر اپنا عقیدت سے انھیں اصنام کے آگے
تراشا ہے جنہیں جہلِ خرد نے اپنے ہاتھوں سے
 
مفاد، اغراض اور حرص و ہوس کے دستِ آہن نے
پکڑ رکھی ہیں ان کی گردنیں مضبوط اتنی
رہائی ان سے ملنا غیر ممکن ہے
وہ خود اپنے ہی زنداں میں مقیّد ہیں
ہبل کعبے میں جو بیٹھا ہوا تھا
مزاروں میں وہ اب لیٹا ہوا ہے
وہی اس دورِ حاضر کا خدا ہے
ہر اک حاجت اسی کے رو برو ہے
عقیدت، انکساری سے اسی کے سامنے دستِ دعا پھیلا ہوا ہے
اس اک مجبور کو مختارِ کل مانا گیا ہے
خوشی کے واسطے اس کی ہزاروں رنگ رلیاں عام ہوتی جا رہی ہیں
خرافات و ضلالت اور بدعات اب لباسِ نو پہن کر رقص کرتی ہیں
یہ عالم ہے
حیا اور شرم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں
 
منات و لات و عزّیٰ، نائلہ تھیں دیویاں دورِ جہالت کی
وہی اب بند ہیں الماریوں میں کاغذی نوٹوں کی سورت
اسی کی ہو رہی ہے اب پرستش
ہوس کی آگ کے شعلوں میں جل کر راکھ ہوتی جا رہی ہے عقلِ انساں
نہیں احساس تک اتنا کہ کیا ہے مقصدِ ہستی
حصولِ عیش کے کیا ہیں تقاضے اس جہاں کے
جہاں کی زندگی فانی نہیں ہے
فقط جینا ہی جینا ہے
ہمیشہ زندہ رہنا ہے
 
مدرسوں خانقاہوں میں بشکلِ دین و مذہب
عبادت کر رہے ہیں لوگ انساں کی
خود اپنے ہاتھ سے ڈھالے عقائد کے بتوں کی
کہیں صوفی خدا ہے تو کہیں عالم خدا ہے
خطیبِ وقت کا ہے کوئی پیرو
امامِ عصر کا ہے کوئی بندہ
زباں سے ان کی جو بھی حرف نکلا ہے اسے الہام کا درجہ ملا ہے
وہ پیغامِ خداوندی۔۔ سنایا تھا جسے چودہ صدی پہلے نبیِ آخری نے
وہ طاقوں میں سجا ہے
خفا آیات ہیں اس کی مگر احساس ہی اب مر چکا ہے
کہیں عیّاشیاں بد کاریاں ہیں رقص کرتی شیش محلوں میں
کہیں عیّاریاں، مکّاریاں ہیں جال ڈالے علم و تقویٰ کی قبا میں
یتیم و بے کس و مفلس کہیں بت آسرا ہیں، رو رہے ہیں
حقوق انسان کے پامال ہوتے جا رہے ہیں
کسی جا امتیازِ اِسود و ابیض کا جھگڑا ہے
 
تمدّن ارتقا کی سمت بڑھتا جا رہا ہے جتنی تیزی سے
اسی رفتار سے گمراہیاں بھی عام ہوتی جا رہی ہیں
ضلالت، کفر کے گھنگھور بادل چھا رہے ہیں
جہالت، شرک کی چھائی ہوئی ہر سو گھٹا ہے
زمیں کا گوشہ گوشہ پھر جہنّم کا نمونہ بن گیا ہے
جو سچ پوچھو تو یہ دورِ جہالت ہے
وہی چودہ صدی پہلے کا منظر ہے
 
حرا کی روشنی کی پھر ضرورت ہے زمانے کو
حرا کی روشنی جس نے کیا ظلمت کدہ روشن
وہی جس نے کۓ احکام نافذ عرشِ اعظم کے زمیں پر
خدا کی معرفت جس کے توسّط سے ہوئی انساں کو حاصل
مٹائی جس نے
کفر و شرک و باطل کی حکومت
دیا جس نے
پیامِ امن و راحت
مساوات و اخوّت کا سبق
جس نے پڑھایا ساری دنیا کو
کہو عہدِ تمدّن کے ثنا خواں سے
اجالا مانگ لے اس روشنی سے
تباہی ورنہ دنیا کی یقینی ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات