اردوئے معلیٰ

وہ بے سایہ ہیں اور سایہ ہے اُن کا سب جہانوں میں

وہ بے سایہ ہیں اور سایہ ہے اُن کا سب جہانوں میں

شبِ اسری وہی جلوہ نما تھے آسمانوں میں

 

بہ صد شوق آ پڑا ہوں آپ کے دربارِ عالی پر

وسیلہ آپ کا درکار ہے دونوں جہانوں میں

 

جھکا جاتا ہے دل سجدے میں کیف و لطف کے باعث

اذانِ عشق کی آئے صدا جب میرے کانوں میں

 

سراہیں جس قدر قسمت کو اپنی اس قدر کم ہے

کہ اذنِ نعت ان کا خاص ہے سب مدح خوانوں میں

 

تھا جب اصحاب کے جھرمٹ میں وہ شمس الضحٰی روشن

زمانہ فخر کرتا ہو گا وہ سارے زمانوں میں

 

ابو ایوب کے گھر جب مجسم نور ٹھہرے تھے

نمایاں کیوں نہ ہوتا وہ مکاں پھر سب مکانوں میں

 

اسے بھی روزِ محشر لیں رداے خیر میں آقا

خمیدہ سر یہ عاصی بھی وہیں ہو گا دوانوں میں

 

جسے خاکِ درِ جاناناں مل جائے ذرا سی بھی

شغف کوئی نہیں رکھتا وہ دنیا کے خزانوں میں

 

یہ بس مرشد کے ہی طوقِ غلامی کا ثمر ہے سب

کہ منظر آج شامل ہے نبی کے نعت خوانوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ