اردوئے معلیٰ

وہ تو یہ خیر ہو گئی جلدی سنبھل گیا

وہ تو یہ خیر ہو گئی جلدی سنبھل گیا

شکوے کا کوئی حرف نہ منہ سے نکل گیا

 

سچ بات کی تو شوخ کا تیور بدل گیا

دامن جو تھاما ، جامے سے باہر نکل گیا

 

میں نے تو ضبطِ عشق میں کچھ کوتہی نہ کی

نہ جانے کیسے آنکھ سے آنسو نکل گیا

 

پستی میں کچھ یہ ہستی ہے انسان کی بھلا

مہماں سرائے دہر میں آج آیا کل گیا

 

کوثر کی سوت آ گئی جب تا بہ میکدہ

پیرِ مغاں سے شیخ بھی پگڑی بدل گیا

 

سائلؔ تمہارے شعر کی تعریف کیا کریں

مضموں جو آیا ذہن میں سانچے میں ڈھل گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ