اردوئے معلیٰ

Search

وہ جس تجلی سے پھُوٹا ہے زندگی کا سراغ

اسی کی ضَو سے درخشاں ہے آگہی کا سراغ

 

بہ فیضِ عشقِ محمد یہ سلسلہ ہُوا ہے

وگرنہ خاک پہ ہوتا نہ آدمی کا سراغ

 

بڑے وثوق سے پیغمبروں نے دی ہے نِوید

سو آئنہ تھا ازل سے مرے نبِی کا سراغ

 

نظر نواز ہے واں حسنِ جادہءِ سیرت

جہاں پہ خُو کو میسر ہے بُو زری کا سراغ

 

ہر اک چمکتا ستارہ ہے تیرے پاؤں کی دُھول

ہر اک دمکتا نظا رہ تری گلی کا سراغ

 

نمودِ خلدِ بریں بھی وہاں سے ہوتی ہے

نبی و بنتِ نبی ہیں درِ علی کا سراغ

 

یہ اُن کی نعتِ مقدس کے صرف شعر نہیں

اِنہی گلوں میں ہے حسنِ سخنوری کا سراغ

 

جبیں میں سجدے ہیں بیتاب اُس زمیں کے لئے

جہاں سے پایا اندھیروں نے روشنی کا سراغ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ