اردوئے معلیٰ

وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے

 

وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے

مدارِ جاں پہ وہی سائبانِ رحمت ہے

 

حضور قحط و وبأ کے حصار میں ہیں ہم

حضور آپ کی ہستی زمانِ رحمت ہے

 

لبوں کا ورد ہے سرکارِ رحمتِ عالم

وہ نخلِ عشق کا امکاں ، جہانِ رحمت ہے

 

وہ جس کی ہستی پہ نازاں ہے کبریا خود بھی

زمینِ اُنس ہے وہ ، آسمانِ رحمت ہے

 

حضور آپ کی سیرت تلاوتِ قرآن

’’حضور آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے،،

 

سرور و کیف ملا نعت سے مجھے اشعرؔ

مرا یقین ہے وہ جان ، جانِ رحمت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ