وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے

 

وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے

مدارِ جاں پہ وہی سائبانِ رحمت ہے

 

حضورؐ قحط و وبأ کے حصار میں ہیں ہم

حضورؐ آپ کی ہستی زمانِ رحمت ہے

 

لبوں کا ورد ہے سرکارِ رحمتِ عالم

وہ نخلِ عشق کا امکاں ، جہانِ رحمت ہے

 

وہ جس کی ہستی پہ نازاں ہے کبریا خود بھی

زمینِ اُنس ہے وہ ، آسمانِ رحمت ہے

 

حضورؐ آپ کی سیرت تلاوتِ قرآن

’’حضورؐ آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے،،

 

سرور و کیف ملا نعت سے مجھے اشعرؔ

مرا یقین ہے وہ جان ، جانِ رحمت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں