وہ جلوہ تھا جو پردوں میں نہاں اب آشکار آیا

وہ جلوہ تھا جو پردوں میں نہاں اب آشکار آیا

انہیں دیکھا تو دنیا کو خدا کا اعتبار آیا

 

ہزاروں حسن لے کر آمنہ کا گلعذار آیا

بہ طرزِ رنگ و بو آیا ، بہ عنوانِ بہار آیا

 

گدا بن کر اسی کے در پہ تاج و تخت والے ہیں

وہ تاج و تخت کو ٹھکرانے والا تاجدار آیا

 

خزاں کی زد میں تھا باغِ تمدن ایک مدت سے

وہ جب تشریف لے آئے تو پھر دورِ بہار آیا

 

تصور ان کے آنے کا حسیں تھا ان کے آنے تک

جب ان کے حسن کو سوچا تو خود یوسفؑ کو پیار آیا

 

زہے اسمِ گرامی ! جب سنا ، جس سے سنا ہم نے

درود اپنی زبانِ شوق پر بے اختیار آیا

 

عطا فرمائی وہ نعمت جہاں کے دردمندوں کو

غریبوں کو سکوں آیا ، یتیموں میں وقار آیا

 

تری تعلیم نے انسانیت کو آبرو بخشی

اخوت پر بہار آئی ، محبت پر نکھار آیا

 

تمہارے دامنِ رحمت نے کیسا صاف کر ڈالا

ذرا آئینۂ خاطر پہ جب اپنے غبار آیا

 

خوشا تقدیر ! دل میں نور تھا عشقِ محمد کا

فضائے تِیرگی میں کام جو زیرِ مزار آیا

 

انہیں اللہ نے تفویض کی قسمت دو عالم کی

انہی کے ہاتھ میں کون و مکاں کا اقتدار آیا

 

زباں بخشے گی خود خاکِ مدینہ بے زبانوں کو

فضا خود بول اٹھے گی محمد کا دیار آیا

 

تمہارے لطف کی دولت سے پھر مسرور پلٹا ہے

تمہارے سامنے آقا کوئی جو شرمسار آیا

 

کرم اللہ کا اتنا رہا تا زندگی آقا

تمہارا نام ہونٹوں پر ہمارے بار بار آیا

 

مدینے سے بلاوا آئے گا اک روز جائیں گے

صباؔ اس آرزو میں کتنا لطفِ انتظار آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ