وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

جو ختم الانبیا و مرسلیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

 

وہ جو شیریں لب و شیریں دہن ہے، وہ جس کی گفتگو میں بانکپن ہے

صدا جس کی مثالِ انگبیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

 

کھِلے گُلشن ہیں جس کے دم قدم سے، جہاں روشن ہے جس کے دم قدم سے

وہی نورِ خُدا نورِ مبیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

 

مقام اُونچا کیا جس کا خُدا نے، بڑا رُتبہ دیا جس کو خُدا نے

وہ جس کے زیرِ پا عرشِ بریں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

 

ہوئے جب رُوبرو معراج کی شب، ہٹا ڈالے گئے پردے تھے جو سب

ہوئے صدیقؓ گویا بالیقیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

 

وہاں جھکتے ہیں سر سب خودسروں کے، نہ آنسو واں تھمیں دیدہ وروں کے

جہاں خیر البشرؐ مسند نشیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

 

ظفرؔ سے بے نواؤں کا سہارا، وہی ہمدرد و مونس ہے ہمارا

وہی عُشاق کے دِل کے قریں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
مری جاں میں سمایا عشقِ محبوبِ خدا ہے
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
خداوندا مجھے عزمِ سفر دے
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق

اشتہارات