اردوئے معلیٰ

وہ حسنِ حقیقت جو سرِ عرشِ بریں ہے

وہ حسنِ حقیقت جو سرِ عرشِ بریں ہے

مستور وہی ذات رگِ جاں سے قریں ہے

 

ہر چیز میں ہے جلوہ فگن ذات اسی کی

ظاہر میں اگرچہ کہیں موجود نہیں ہے

 

تسبیح کناں ارض و سما جنّ و ملائک

سجدے میں جھکی عجز سے ہر ایک جبیں ہے

 

آفاق ازل سے ہے اسی کُن کی گواہی

جس کُن سے ہر اک قلب میں وہ آپ مکیں ہے

 

خورشید جہاں تاب تِری ایک تجلی

مہتاب کی کرنوں میں ترا نقش نگیں ہے

 

کلیوں کا تبسم ہو کہ بلبل کا ترنم

ہر حسن کے پردے میں وہی پردہ نشیں ہے

 

قابل نہیں میں گرچہ ترے لطف و کرم کا

رحمت پہ تری مجھ کو مگر پختہ یقیں ہے

 

اے حسنِ ازل ، مجھ کو عطا قربتِ احمد

ذیشاں کی یہی اب تو تمنائے حزیں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ