وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے

غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

 

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر

وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ

 

سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ

ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دل میں رہتے ہیں سدا میرے نبی​
ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ
درِ حبیب پہ رکھے خدا، گدا مجھ کو
دشمن ہے گلے کا ہار آقا
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
السلام اے خسروِ دنیا و دیں
در پہ آئے ہیں اِلتجا کے لیے
اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں
سارے عالم آپؐ کے زیرِ اماں زیرِ نگیں
میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں