اردوئے معلیٰ

Search

وہ دلکشی ملی نہ کہیں اور دہر میں

آئی نظر جو رحمت عالم کے شہر میں

 

گر لمس دست ناز ترا ہو اسے نصیب

اثرات زندگی کے مرتب ہوں زہر میں

 

سیل کرم تھا وہ کہ ہر اک کوہ رنج وغم

تنکے کی طرح بہہ گیا بس ایک لہر میں

 

تعظیم مصطفےٰ سے کیا جس نے انحراف

وہ شخص مبتلا ہوا قدرت کے قہر میں

 

سیراب ہوں وہ زمزم رحمت سے ہر گھڑی

ہیں غوطہ زن جو عشق شہ دیں کی نہر میں

 

خاک در رسول سے آنکھیں ملا سکے

اتنی کہاں مجال فراز سپہر میں

 

تخلیق کائنات کا باعث ہیں مصطفےٰ

اے نورؔ جلوہ گر ہیں وہی ماہ و مہر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ