اردوئے معلیٰ

وہ دوجہاں میں ہے واللہ سرفرازِ علی

وہ دوجہاں میں ہے واللہ سرفرازِ علی

علی کے ناز نے بخشا جسے نیازِ علی

 

حدیث ’’لحمک لحمی‘​‘​ سے صاف روشن ہے

کہ سوز و ساز محمد ہے سوز و سازِ علی

 

کمال، شاہ ولایت کا چھپ نہیں سکتا

کہ قطب و غوث ہیں سب رازدار رازِ علی

 

وہ بدر و خیبر و خندق ہو یا حدود اُحد

حضور حق نے اٹھایا ہے بڑھ کے نازِ علی

 

سیاہی شب ہجرت میں میٹھی نیند کا راز

بیاں کرے گی فقط چشم نیم بازِ علی

 

وہیں پہ رحمتیں بیتاب ہو کے چھا جائیں

جہاں ہو سایہ فگن گیسوئے درازِ علی

 

صبیحؔ! کیسے نہ آساں ہوں مشکلیں میری

مدد کو آتا ہے خود دستِ دل نوازِ علی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ