وہ ذرا انتظار کر لیتا

وہ ذرا انتظار کر لیتا

میں خزاں کو بہار کر لیتا

 

ہم نہ تم کو بھُلا سکے ورنہ

ہم سے بھی کوئی پیار کر لیتا

 

دیپ رکھ کر منڈیر پر دِل کی

زندگی کو مزار کر لیتا

 

کچھ بھی تو حوصلہ نہ تھا اُس میں

جتنے دریا تھے پار کر لیتا

 

کاش میں اُس کے ’’آج‘‘ سے اشعرؔ

اپنا ’’کل‘‘ یادگار کر لیتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو

اشتہارات