اردوئے معلیٰ

وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟

اب عشق بھلا اور کرامات کرے کیا؟

 

یہ ضِد مری ہم عمر رہی ہے کہ میں دیکھوں

منظر ہے بھلا حدِ بصارت سے پرے کیا؟

 

کیا سوچ کے سینچے ہے یہ صدمات لہو سے

ہو جائیں گے اس طور ترے پات ہرے کیا؟

 

اک تارِ تنفس ہے کہ لے دے کے بچا ہے

دِل یہ بھی ترے دستِ کُشادہ پہ دھرے کیا؟

 

اُبھری ہے جو یکبار چھنک ، خیر نہیں ہے

پھر کانچ کسی خواب کا توڑا ہے ، ارے کیا؟

 

ائے بحرِ ابدگیر ، کہاں پیر دھروں میں؟

جو ساحلِ امید تھے ، سب ڈوب مرے کیا؟

 

گرِ جائے گی لٹکی ہوئی تلوار ، کسی دِن

تا عمر کوئی مرگِ یقینی سے ڈرے کیا؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات