وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟

وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟

اب عشق بھلا اور کرامات کرے کیا؟

 

یہ ضِد مری ہم عمر رہی ہے کہ میں دیکھوں

منظر ہے بھلا حدِ بصارت سے پرے کیا؟

 

کیا سوچ کے سینچے ہے یہ صدمات لہو سے

ہو جائیں گے اس طور ترے پات ہرے کیا؟

 

اک تارِ تنفس ہے کہ لے دے کے بچا ہے

دِل یہ بھی ترے دستِ کُشادہ پہ دھرے کیا؟

 

اُبھری ہے جو یکبار چھنک ، خیر نہیں ہے

پھر کانچ کسی خواب کا توڑا ہے ، ارے کیا؟

 

ائے بحرِ ابدگیر ، کہاں پیر دھروں میں؟

جو ساحلِ امید تھے ، سب ڈوب مرے کیا؟

 

گرِ جائے گی لٹکی ہوئی تلوار ، کسی دِن

تا عمر کوئی مرگِ یقینی سے ڈرے کیا؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں

اشتہارات