اردوئے معلیٰ

Search

وہ سامنے غنیم کی فوجیں ہیں دجلہ پار

ہیں اس طرف اکیلے حسینؑ اسپ پہ سوار

 

دامن پہ ہے غبار گریباں ہے تار تار

کانٹوں پہ جیسے پھول ہو، یوں ہے وہ نامدار

 

آزادؔ! نوکِ خار کی زد پر ہے پھول دیکھ

ہاں دیکھ! اِنقلابِ جہاں کا اصول دیکھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ