وہ سب انبیاء کے ہیں ٹھہرے امام

وہ سب انبیاء کے ہیں ٹھہرے امام

خدا کے بہت ہیں چہیتے امام

 

قسم جن کی زلفوں کی کھائے خدا

وہ ہیں سب جہانوں کے پیارے امام

 

توسل سے جن کے دعا ہو قبول

وہ ہیں غمزدوں کے سہارے امام

 

محبانِ احمد کی ایسی ہے شان

زمانہ انہیں بھی ہے مانے امام

 

احادیث ہوں یا کہ قرآن ہو

خدا کی زباں ہی تو بولے امام

 

قمر بھی خوشی سے ہو جائے دو لخت

نظر سے اشارہ جو کر دے امام

 

مثالی ہے اسوہ نبی کا خلیل

یہ سب کی حیاتی سنوارے امام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو
مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
تمہیؐ سرور تمہیؐ ہو برگزیدہ یارسول اللہؐ
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
جان ہیں آپؐ جانِ جہاں آپؐ ہیں
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

اشتہارات