اردوئے معلیٰ

وہ شمع علم کہ نور اس کا خانہ خانہ ملا

 

وہ شمع علم کہ نور اس کا خانہ خانہ ملا

وہ ابر لطف کہ فیض اس کا دانہ دانہ ملا

 

اتر کے غار حرا سے بڑھا جو سوئے حرم

حرم کو رحمت یزداں کا شامیانہ ملا

 

جہان فکر و عمل پر عجب بہار آئی

دل و نگاہ کو انداز معجزانہ ملا

 

خدا نے ان کو عطا کی جوامع الکلمی

سخن سخن میں معارف کا اک خزانہ ملا

 

مری نظر میں ابو جھل ہے تو یہ کچھ ہے

انہیں جمال دکھانے کا اک بہانہ ملا

 

کہاں جمود و تعطل ہے ان کی راہوں میں

کہ نقش پا بھی وہاں جو ملا روانہ ملا

 

زہے عروج کہ پاؤں تلے شب اسریٰ

نگاہ طائر سدرہ کو آشیانہ ملا

 

فراز عرش سے لوٹے تو راستے میں انہیں

غبار راہ میں لپٹا ہوا زمانہ ملا

 

ابھی قبول سے خارج ہے تیری نعت اے نذر

کچھ اور اس میں تب و تاب عاشقانہ ملا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ