اردوئے معلیٰ

وہ شہنشاہ معظم، وارث تاج و سریر

وہ شہنشاہ معظم، وارث تاج و سریر

سرنگوں ہے جس کے آگے سطوت میر و وزیر

 

اُس کی مدحت سے مرے دل کو توانائی ملی

اُس کی سیرت نے کیا زندہ مرا مردہ ضمیر

 

سادگی محبوب ہے جس کو رسول اللہ کی

ہیچ ہے اُس کے لیے ملبوس کمخواب و حریر

 

رہبر گم کردہ راہاں، چارہ بے چارگاں

بے نواؤں کی نوا، وہ بے کسوں کا دستگیر

 

وہ سحاب رحمت خلاق اقلیم زماں

زندگی کی کشت ویراں کے لیے ابر مطیر

 

سیرت پاک اُس کی ہے قرآن کا ایک اک ورق

اُس کا ہر قول و عمل ہے بے مثال و بے نظیر

 

اُس کا دستور مکمل وجہ تکمیل حیات

اُس کے اقوال مطہر باعث خیر کثیر

 

شرک و بدعت کے لیے ہے ضرب حق اُس کا جلال

رشک ماہ و آفتاب اُس کا جمال دلپذیر

 

روشنی پھیلی اُسی سے چارسو آفاق میں

جس کے باعث آج تک غارِ حرا ہے مستنیر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ