اردوئے معلیٰ

Search

وہ صبحِ منوّر مکّے کی ، وہ جگمگ رات مدینے کی

عمّامہ سنہرے ریشم کا ، چادر نیلے پشمینے کی

 

صحرا سے ندا سی آتی ہے راتوں میں مجھ کو جگاتی ہے

یہ دل پر تھاپ کسی دَف کی یہ ہُوک کسی سازینے کی

 

ان اونچے ٹیلوں کے پیچھے کوئی ہجر کا نغمہ گاتا ہے

ہم ٹھنڈی ریت پہ بیٹھے ہیں ، میں اور یہ شب زرّینے کی

 

کل رات یکایک جاگ اٹھے کچھ منظر خفتہ یادوں کے

پھر خوشبو آئی قہوے کی پھر تیز مہک پودینے کی

 

میں جو اور دودھ پکاتا ہوں پھر ان میں شہد ملاتا ہوں

مرے دل سے رنج مٹاتی ہے تاثیر اسی تلبینے کی

 

اک عنبر صاع کھجوروں کا اک خوشہ سبز انگوروں کا

یہ سب یاقوت و زمرد ہیں دولت انمول خزینے کی

 

جو کی روٹی کا نوالہ ہے اک برتن سرکے والا ہے

یہ دنیا قیمت کیا جانے مرے مملوکہ گنجینے کی

 

اک کوزہ مجھ کو بلاتا ہے جی بھر کے نبیذ پلاتا ہے

پھر پیاس مری بھڑکاتا ہے اک سیرابی میں جینے کی

 

ممکن ہے کہ اک دن یہ دونوں مرے ہاتھ پکڑ کر لے جائیں

یہ خواہش عجوہ کھانے کی ،  یہ حسرت زمزم پینے کی

 

میں بئر اریس پہ بیٹھا ہوں پانی پر نقش ابھرتے ہیں

وہ نقرئی مہر انگوٹھی کی ، خاتم نقشین نگینے کی

——

اے خالق عظمتِ ابجد کے’ اے خالق نعتِ محمد(ص) کے

سکھلا دے لفظ سلیقے کے’ بتلادے بات قرینے کی

 

ممکن ہے کہ دوسری دنیا کی تقویم میں بس اک ساعت ہو

اس ماہ ربیع الاوّل کی’اس عالم ساز مہینے کی

 

تشکیک زدہ ان لوگوں میں ہم لوگ یقیں پروردہ ہیں

ہم آخری منزل جانتے ہیں اس نیلے گول سفینے کی

 

تھک ہار کے آخر جب تجھ تک آئے گی تو دنیا کردے گی

تائید سبھی اندازوں کی’ تصدیق ہراک تخمینے کی

 

واللہ انہی کے کرم سے ہے’ لاریب انہی کے دم سے ہے

یہ ندرت میرے لفظوں میں یہ برکت میرے سینے کی

 

سرمایہ میرے اب و جد کا یہ ہیرا دینِ محمد کا

سب رب کی عطا اور محنت ہے نسلوں کے خون پسینے کی

 

شجرے کے آخری کونے پر اک نام سعودؔ بھی لکھا ہے

یہ پیڑھی نچلی سیڑھی ہے چو دہ سو سالہ زینے کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ