وہ مری میز پہ رکھتا ہے جہاں سرخ گلاب

وہ مری میز پہ رکھتا ہے جہاں سرخ گلاب

میں نے پروین کی انکار وہاں رکھ دی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قہقہوں سے لدے پھندے ھوئے شخص
نیا کرایے دار یہ سُن کر کانپ رہا ہے
ہمارے دل کی بربادی کا افسانہ ہے بس اتنا
ترا لہجہ تھا جاناں شیر و شبنم سے عبارت ترا لہجہ
لہجہ ہے کیسا سرد، رویّہ ہے کیسا خشک
کھو گیا کوئے دلربا میں نظامؔ
تیری آواز کہیں روشنی بن جاتی ہے
مری دستار کیسے بچ سکے گی
زندگی جس کے تجسس میں گزاری ہم نے
شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے