وہ مسجدِ اقصیٰ جلتی ہے ، ایمان شہادت پاتا ہے

قبلۂ اول مسجد اقصٰی کی آتشزدگی کا سانحہ پہلی بار 21 اگست 1969 کو پیش آیا اور اس وقت معروف ادبی شخصیت سید فخرالدین بلے کے اندر کا شاعر بلبلا اٹھا اور انہوں نے ایک شاہکار نظم تخلیق کی ۔جس کا عنوان تھا آگ ۔آج بھی مسجد اقصٰی صیہونی قوتوں کے نشانے پر ہے. اسی لئے یہ یادگار نظم قارئین کرام کے جذبات کی ترجمانی کیلئے پیش خدمت ہے۔
——
سید فخرالدین بلے کی ایک نظم آگ ،مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی سے متاثر ہو کر
——
قرآں سے دھوأں سا اٹھتا ہے اور عرشِ بریں تھراتا ہے
اللہ ! وفور ِغیرت سے نبیوں کو پسینہ آتا ہے
وہ قبلۂ اول منزل تھی ، معراج کی شب جو احمد کی
وہ مسجدِ اقصیٰ جلتی ہے ، ایمان شہادت پاتا ہے
وہ تین سو تیرہ تھے جن سے تقدیرِ امم تھراتی تھی
ہم پون ارب ہیں جن کا سر ہر گام پہ جھکتا جاتا ہے
تھے صرف بہترّ جن کا لہو معراجِ ِشعورِ ہستی ہے
محرابِ ِشفق پر جن کا علم ہر شام و سحر لہراتا ہے
سرکارِ دو عالم کی امت، اللہ کے ضیغم کے پیرو
دلگیر ہیں ، گرگِ صیہونی اندازِ شنا دہراتا ہے
——
ہم وہ ہیں کہ جن کی تکبیریں گونجی ہیں سوادِ عالم میں
ہم وہ ہیں کہ جن کے کلمے سے اصنامِ جہاں لرزیدہ ہیں
ہوں بدر و احد یا خیبر ہو یا واہگہ اور چونڈہ ہوں
ہم وہ ہیں کہ جن کی ہیبت سے کفارِ جہاں ترسیدہ ہیں
کیا سوچ کے ہم پر بھونکے ہیں غیلانِ سگانِ صیہونی
مجروح اسادِ خفتہ بھی دمبازوں سے بالیدہ ہیں
——
ایثار و شجاعت کے خوں سے پھر باب رقم کرنا ہو گا
شبیر کی سنت پر چل کر جینے کے لئے مرنا ہو گا
رندانِ خمستانِ ملت ! ناوک بہ گلو اصغر کی قسم
میخانہ ء دیں میں شہ رگ سے ہر جامِ وفا بھرنا ہو گا
——
ہے اپنا علم کالی کملی اور ابنِ علی کا پیراہن
دستارِ علی ؑ ء شیرِِ خدا ، عابد کے گلے کے طوق و رسن
ہم ہاتھ میں لے کر یہ پرچم ہر دشمنِ دیں پر ٹوٹیں گے
اے قبلہ ء اول تیرے لئے باندھیں گے سروں سے اپنے کفن
اے مسجدِ اقصیٰ تیرے لئے ہم خون سے ہولی کھیلیں گے
ہم رزم و وِغا کے عادی ہیں ، ہے جان گنوانا اپنا چلن
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ