اردوئے معلیٰ

Search

وہ مسیحا قبر پر آتا رہا

میں موے پر روز جی جاتا رہا

 

زندگی کی ہم نے مر مر کے بسر

وہ بت ترسا جو ترساتا رہا

 

واہ بخت نارسا دیکھا تجھے

نامہ بر سے خط کہیں جاتا رہا

 

راہ تکتے تکتے آخر جاں گئی

وہ تغافل کیش بس آتا رہا

 

دل تو دینے کو دیا پر ہم نشیں

ہاتھ میں مل مل کے پچھتاتا رہا

 

دیکھ اس کو ہو گیا میں بے خبر

دل یکایک ہاتھ سے جاتا رہا

 

کیا کہوں کس طرح فرقت میں جیا

خون دل پیتا تو غم کھاتا رہا

 

رات بھر اوس برق وش کی یاد میں

سیل اشک آنکھوں سے برساتا رہا

 

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اس کو جا بہ جا

دل خدا جانے کدھر جاتا رہا

 

اس مسیحا کی امید وصل میں

شام جیتا صبح مر جاتا رہا

 

عشق کا رعناؔ مرض ہے لا دوا

کب سنا تو نے کہ وہ جاتا رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ