اردوئے معلیٰ

وہ مقدر میں نہیں جو ہمارے دل میں ہے

اب خیالِ سعیِ حاصل سعیِ لاحاصل میں ہے

 

میرے دل میں ہے نہ وہ اغیار کی محفل میں ہے

یاالہٰی اب مقامِ دوست کس منزل میں ہے

 

وصل سے انکار اُن کو ، یاں تمنائے وصال

واں وفا مشکل میں ہے ، یاں آرزو مشکل میں ہے

 

اک قدم بڑھتا ہوں تو بڑھتی ہے منزل دو قدم

یا الہٰی کس کا بختِ نارسا منزل میں ہے

 

راز الفت کھل گیا ، باطن جو تھا ظاہر ہوا

اب تو ہے سب کی زباں پر جو ہمارے دل میں ہے

 

آتشیں جلوے ادھر ہیں آہ شعلہ زن ادھر

مژدہ اے ذوقِ نظر ، کیا پردۂ حائل میں ہے

 

اُس کا گھر ، اُس کا تصور ، اُس کی یاد ، اُس کا خیال

یا ہماری آنکھ میں ہے یا ہمارے دل میں ہے

 

وہ ہوں اور رنجشِ اغیار ! ہے بالکل غلط

کچھ نہ کچھ طرزِ شرارت طینت ِ ناقل میں ہے

 

حسن پردہ در ہوا پیشِ نگاہ رخنہ گر

قیس جنگل میں ، نہ لیلیٰ پردۂ محمل میں ہے

 

بیٹھے بیٹھے یا الہٰی یاد کس کی آ گئی

آنکھ میں آنسو بھرے میں درد کچھ کچھ دل میں ہے

 

حورِ جنت کے بیاں سے آ گئی یادِ بُتاں

یہ اثر واعظ ! تری تقریر لاطائل میں ہے

 

ایک حسرت دل سے نکلی ایک حسرت رہ گئی

ایک پیکاں دل سے نکلا ایک پیکاں دل میں ہے

 

چھوڑ بھی سکتے نہیں اور ضبط بھی ممکن نہیں

عشق کے ہاتھوں ہماری جان کس مشکل میں ہے

 

ڈرر ہا ہے ، گو سوالِ وصل کی ہمت نہیں

پھر بھی کچھ اٹکا ہوا مطلب لبِ سائل میں ہے

 

بعد مدت کے مرا دل پھیرتے ہیں ہائے ہائے

سن لیا دشمن سے کوئی آرزو اس دل میں ہے

 

ہم تو سن لیتے ہیں جی بھر کر تمہاری گالیاں

تم بھی سن لو بندہ پرور ! جوہمارے دل میں ہے

 

المدد اے المدد ! شوقِ شہادت المدد

مژدہ باد اے مرگ ! خنجر پھر کفِ قاتل میں ہے

 

دختِ رز کا ذکر ہے یاں ، حور کا ہے واں بیاں

میکدے میں ہے وہی جو شیخ کی محفل میں ہے

 

کیا کریں مجبور ہو کر نذر کر دیتے ہیں جاں

لب پہ آ سکتی نہیں وہ بات جو قاتل میں ہے

 

ہوں تمہارا مدعی اور گردِ راہِ مدعا

خاکساری ، پائمالی ، میرے آب و گِل میں ہے

 

اب تو ہم سر مست صہبائے محبت ہو چکے

کیفِ مے آنکھوں میں ہے ، جوشِ مسرت دل میں ہے

 

سخت جانی تو نہ ہمت ہاریو ہنگام قتل

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

 

قبر پر آ کر وہ کہتے ہیں یہ کس افسوس سے

مرنے والے کی جگہ خالی مری محفل میں ہے

 

غیر کی دعوت میں بے حد ہے خیالِ انتظام

اک قدم محفل سے باہر ، اک قدم محفل میں ہے

 

سیکڑوں صدمے ، ہزاروں درد ، لاکھوں آفتیں

ایک جاں عاشق کی ، اے اللہ! کس مشکل میں ہے

 

واہ کیا خوب ! آپ نے سیکھی ہے یہ تیرافگنی

زہ میں ہے سوفار اور پیکاں ہمارے دل میں ہے

 

جب کوئی دیکھا حسیں فوراََ دل اس پر آ گیا

سخت ہوں حیراں کہ یہ کیا چیر آب و گل میں ہے

 

ہو گیا تیرِ محبت کا اثر دونوں طرف

کچھ تمہارے دل میں ہے اور کچھ ہمارے دل میں ہے

 

ہم نے کثرت میں وہی دیکھا ہے جو وحدت میں ہے

ہم کو خلوت میں وہی ہے لُطف جو محفل میں ہے

 

دوستی منہ پر عداوت دل میں یہ بہتر نہیں

منہ پہ کیوں کہتے نہیں جو کچھ تمہارے دل میں ہے

 

ہے دلِ آزادؔ اک مہماں سرائے مہوشاں

ڈھونڈئیے جس مہ جبیں کو صورت اس کی دل میں ہے

 

کچھ اثر آزادؔ میرے جذبِ اُلفت نے کیا

آج سنتا ہوں وہاں بھی بے قراری دل میں ہے

 

یہ غزل شائستہ خان سلمہا نے مولوی محمد یوسف جعفری رنجور عظیم آبادی کی بیاض ( مخزونہ خدا بخش اورنٹیل پبلک لائبریری ، پٹنہ ) سے دریافت کی ہے ۔

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات