اردوئے معلیٰ

Search

وہ مہربان جھیل فقط بھاپ رہ گئی

پیاسے لبوں کی آنچ بہت ہی شدید تھی

 

پہنچا ہوں اپنی آخری سانسوں کی حد تلک

حیرت سرائے دہر کی وسعت مزید تھی

 

فرشِ نظر پہ رقص کناں تھی وہ اپسراء

دستِ رساء میں باغِ اِرم کی کلید تھی

 

اُبھری سکوتِ مرگ میں پازیب کی چھنک

آواز تھی تری کہ بقاء کی نوید تھی

 

تیرے کرم سے تیز رہا غم کا ارتقاء

ہر خواب سے شکست کی صورت جدید تھی

 

اُس عہدِ بے دلی میں خیالات بوجھ تھے

ارض و سماء کی فکر جہنم رسید تھی

 

بنتا تھا کور بین زمانے میں پھوڑنا

یہ چشمِ کم نصیب گنہگارِ دید تھی

 

خالص لہُو کی بُوند نے دو آتشہ کیا

آخر شرابِ شعر لہُو سے کشید تھی

 

نا قابلِ یقین رہیں ، بے نیازیاں

جیسے کہ کائنات مری زر خرید تھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ