اردوئے معلیٰ

وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے

حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے

 

بس ایک لمحے کو سوچا تھا اُس کا اسمِ کریم

وہ روشنی ہے کہ تا حدِ ممکنات میں ہے

 

اِسے مدینے کی آب و ہَوا میں لوٹا دے

سخی یہ طائرِ جاں سخت مشکلات میں ہے

 

جو تیری مدح کی دہلیز جا کے چھو آئے

کمال ایسا کہاں میری لفظیات میں ہے

 

پھر اِس کے بعد کسی اور سمت دیکھا نہیں

نگہ تو دید کی حیرت گۂ ثبات میں ہے

 

دُعا کے لفظ بناتا ہوں، بھول جاتا ہُوں

قسم خدا کی دُعا بھی تو تیری نعت میں ہے

 

ہے کس قدر ترے شہرِ عطا سے نسبتِ شوق

حیات خود ہی وہاں خواہشِ ممات میں ہے

 

اُنہیں کی مدحتِ رحمت کا فیض ہے مقصودؔ

یہ تازگی جو تری حرف حرف بات میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات