وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے

وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے

حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے

 

بس ایک لمحے کو سوچا تھا اُس کا اسمِ کریم

وہ روشنی ہے کہ تا حدِ ممکنات میں ہے

 

اِسے مدینے کی آب و ہَوا میں لوٹا دے

سخی یہ طائرِ جاں سخت مشکلات میں ہے

 

جو تیری مدح کی دہلیز جا کے چھو آئے

کمال ایسا کہاں میری لفظیات میں ہے

 

پھر اِس کے بعد کسی اور سمت دیکھا نہیں

نگہ تو دید کی حیرت گۂ ثبات میں ہے

 

دُعا کے لفظ بناتا ہوں، بھول جاتا ہُوں

قسم خدا کی دُعا بھی تو تیری نعت میں ہے

 

ہے کس قدر ترے شہرِ عطا سے نسبتِ شوق

حیات خود ہی وہاں خواہشِ ممات میں ہے

 

اُنہیں کی مدحتِ رحمت کا فیض ہے مقصودؔ

یہ تازگی جو تری حرف حرف بات میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمیں والو! مبارک ہو شہِ ابرار آئے ہیں
اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میں
زہے نصیٖب سفر ہو مرا بھی سوئے نبیؐ
قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ
امکان جس قدر مرے صبح و مسا میں ہیں
جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے، پھر بھی
اک تجلّی تری گماں میں ہے
نگاہِ رحمتِ حق ملتفت ہوئی مجھ پر
میں اُمتی ہوں وہ میرا آقا تو یہ خموشی ہے نا مناسب
لکھتے ہیں سخن سنج بہ عنوانِ محمدؐ