وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں

وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں

گزرتی ہے جو مجھ پر لوگ سب معلوم کرتے ہیں

 

رقیب اس کو بناتے ہیں جو ہو اونچے گھرانے سے

محبت میں بھی ہم نام و نسب معلوم کرتے ہیں

 

جب آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری ، تو یار یاروں کے

گریباں ہاتھ میں لے کر سبب معلوم کرتے ہیں

 

ہم آدابِ محبت کی حدوں کو پار کرنے پر

کہاں پر رہ گئی حد ادب معلوم کرتے ہیں

 

وہ میرے پاس پھر سے آ گیا ، لیکن زرا ٹھہرے

مرے دل کو ہے اب کتنی طلب معلوم کرتے ہیں؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق
آرزو موجزن ہے نس نس میں
نہیں مطلب نہیں اس کی نہیں کا
سر بسر آنسو، مکمل غم ھوں میں
ایسی تخیلات میں تجریدیت گھلی
پس ِ نقوش بھی میں دیکھنے پہ قادر تھا
کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں
کسی کی ذات سے کچھ واسطہ نہ ہوتے ہوئے
حرفِ رسوا ہوں کہ تشہیر ہوں ، جانے کیا ہوں

اشتہارات