وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں

وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں

وہ کیا زمیں ہے جہاں آسماں اترتے ہیں

 

ترے چمن سے خزاں کا گزر نہیں ہوتا

ترے چمن میں گل جاوداں اترتے ہیں

 

بس اک بار وہ شہر جمال دیکھنا ہے

جہاں پہ مہر و مہ و کہکشاں اترتے ہیں

 

نگاہ شوق نے خوابوں میں جن کو دیکھا ہے

بیاض دل سے وہ منظر کہاں اترتے ہیں

 

خدا کا شکر ہے کہ نسبت ہے اس دیار کے ساتھ

پئے سلام ملائک جہاں اترتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کالی کملی والے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا
حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
مرا کیف نغمۂ دل، مرا ذوق شاعرانہ​
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات