’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘‘

’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے ، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘​‘​

تبسم ایسا کہ ہنس دیں روتے، تکلم ایسا فصیح ہوں گونگے

نبیِ رحمت کا حُسنِ نمکیں، کہاں شمار و حساب میں ہے

’’گلاب گلشن میں دیکھے بلبل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے‘​‘​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے
بسایا میں نے دل میں مصطفیٰؐ ہے
یہ لُطف و کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے
ہے مجھے عشق حضورؐ آپ سے پیار آپؐ سے ہے
فکرِ سرکارؐ وجہِ راحت ہے
مجھے سرکارؐ سے وابستگی دے
ہے مخلوقات پہ احسان اُنؐ کا
آسماں آسماں قدم اُس کے
’’عرش پر دھومیں مچیٖں وہ مومنِ صالح ملا‘‘
’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘