اردوئے معلیٰ

Search

وہ ہیں محبوبِ رب انکی سبکو طلب,اس میں کیا کوئی شک قلب سے روح تک

ہر نفس ہر گھڑی ہے بہ حسنِ طلب انکی روشن جھلک قلب سے روح تک

 

حسنِ طیبہ نگر ,کررہا ہے سفر، ہے ابھی تک وہی میرے پیشِ نظر

دید سے آنکھ تک, آنکھ سے خواب تک، خواب سے سے قلب تک, قلب سے روح تک

 

گردِ اوہام و آلام سے باخدا، میں نے رکھا ہے شفاف ہر آئینہ

آبہ حسنِ کرم اے خیالِ نبی، ,چھا بھی جا بے دھڑک قلب سے روح تک

 

جنکا حمّاد رب ,مجھ کو ان کی طلب، نعت کیسے کہوں., ہے سلیقہ نہ ڈھب

ہے مری آرزو., فکرِ حسّان کی، کاش پہچے کمک , قلب سے روح تک

 

ہے بجا معتبر , یہ سخن کا ہنر، ذہن تک ہے مگر شوق کا یہ سفر

بات جب ہے کہ ہو فکرِ نعتِ شہِ، دوسرا کی ہمک , قلب سے روح تک

 

ہم سے کیا پوچھئے. کیا بتائیں کہ ہیں، بوئے توصیف کے بھی عجب سلسلے

پھول مدحِ نبی کے لبوں پر کھلے، اور پہنچی مہک قلب سے روح تک

 

اسکو کہتے ہیں طاہر کرم ہی کرم ،تھا لبوں پر مرے ذکر شاہِ امم

اور پھر یہ ہوا بے خودی کی فضا ، چھاگئی یک بیک قلب سے روح تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ