اردوئے معلیٰ

Search

ٹلتی ہی نہیں اب تو بلائیں مرے سر سے

مدت ہوئی رحمت کی گھٹاؤں کو بھی برسے

 

طائر جو سرِ شاخ پہ بیٹھے ہیں نڈر سے

کیا عہد کوئی باندھ لیا برق و شرر سے

 

اب مجھ کو نہیں شغلِ مے و جام سے مطلب

مخمور ہوا دل ترے فیضانِ نظر سے

 

سو رازِ حقائق سے اٹھا دیتی ہے پردہ

وہ ایک حقیقت کہ چھپی چشمِ بشر سے

 

وہ خاک بسر ہو کے رہے اشکِ فروزاں

جو دور ہوئے انجمنِ دیدۂ تر سے

 

اک آگ سی مدت سے نظرؔ دل میں لگی ہے

اللہ کرے اشک مری آنکھ سے برسے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ