اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے

 

پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے

روشن ترا جمال اے ماہ عجم رہے

 

تو نے عطا کیے ہیں کنیزوں کو تخت و تاج

تیرے غلام صاحب جاہ و حشم رہے

 

جب تک جبین دل ترے دل پر جھکی رہی

اپنے حضور قیصر و فغفور خم رہے

 

کرتے رہے حکایت مہر و وفا رقم

جب تک ہمارے ہاتھ میں لوح و قلم رہے

 

ہم نے جہاں کو خیر و سعادت سے بھر دیا

جس جار رہے ہیں صورت ابر کرم رہے

 

مغرب میں اپنے نام کا سکہ رواں رہا

مشرق میں سر بلند ہمارے علم رہے

 

ہم سے بساط علم کو آرائشیں ملیں

ہم سے جہاں میں اہل ہنر محترم رہے

 

کیا کیا نہ فیض شہر نبیؐ بانٹتا رہا

کیا کیا رواں نہ قافلے سوئے حرم رہے

 

پھر کیوں زمانہ چال قیامت کی چل گیا

پھر کیوں نہ روز و شب وہ ہمارے بہم رہے

 

دے گا تیرا ضمیر ہی اس بات کا جواب

کچھ دیر شرم سے اگر سر نذر خم رہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
جب مقدر میں مرے اذنِ مدینہ آیا
مدینہ شہرِ دلنشیں ہے نُور بار، مُشکبو
شوق تدبیر کرے اور زباں ساتھ نہ دے
شگفتہ ہے گُلِ امکانِ رحمت
حبيب کبریا مجھکو مدینے میں بلا لیجیے
اے کاش ایک ایسی مدینے کی شام ہو
مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو
سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے
قلب وہ جس میں لگن آپ کی گھر کر جائے